The news is by your side.

Advertisement

گزشتہ حکومتوں میں 11 ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی گئی: شہزاد اکبر

لوٹی دولت واپس لانے کے لیے مختلف ملکوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرلیے گئے ہیں

لاہور: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے دوران تقریباً 11 ارب ڈالرز منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے دوسرے ملکوں میں منتقل کیے گئے 1 ارب ڈالر کی وصولی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے دوران تقریباً 11 ارب ڈالرز منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے بیرون ملک منتقل کیے گئے ہیں۔ مختلف ملکوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں جس سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کی راہ ہموار ہو گی۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے مینڈیٹ کے ذریعے آئی ہے اور اس سے انحراف نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ منظور پاپڑ والا بیرون ملک سے حمزہ شہباز کو ڈیڑھ ملین ڈالر بھیجتا ہے، سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ تو کبھی بیرون ملک گیا ہی نہیں تو پیسے کیسے بھیجے۔

انہوں نے کہا تھا کہ حمزہ شہباز خود قبول کر چکے ہیں کہ ان کے اثاثوں میں 17 کروڑ کا اضافہ ہوا، سنہ 2003 میں ڈکلیئرڈ رقم 20 ہزار روپے تھی جب کہ 2017 میں 3 ارب سے بھی زیادہ ہوگئی۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا تھا کہ پیسہ بھیجنے والوں کی جعلی شناخت استعمال کی گئی، بینکنگ کے ذریعے غیر قانونی رقم چھپانے کے لیے منی لانڈرنگ کی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں