The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف واپس نہ آ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں: شہزاد اکبر

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے ذاتی انڈر ٹیکنگ پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دی تھی، نواز شریف اور شہباز شریف اس وقت عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شریفوں کے جھوٹ اور جھوٹوں کی داستان از سر نو ثابت ہوگئی، نواز شریف نے قوم کے ساتھ تواتر سے جھوٹ بولے، پاناما کیس سے نواز شریف سرٹیفائیڈ جھوٹے قرار پائے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ایک بیانیہ گھڑا گیا کہ کرپشن پر نہیں اقامے پر نکالا گیا، نواز شریف کو کرپشن اور منی لانڈرنگ پر ہی نکالا گیا ہے۔ عمران خان پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے پھر بھی منی ٹریل دی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹرائل تہمت اور جھوٹ بولنے پر ہوتا ہے، ہم ایک ایک لفظ تصدیق کے ساتھ بولتے ہیں، ان کا میڈیا ٹرائل میں نے کیا ہے تو مجھے عدالت لے جائیں۔ تحریک انصاف میں جو بھی پیسہ آیا اس کی ٹریل الیکشن کمیشن کو دی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی آج تک اپنے ایک ڈونر کا نہیں بتا سکے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ احتساب ریڑھی والے یا پان والے کا نہیں بلکہ طاقتور کا ہوتا ہے، ان سے سوال کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی انتقام کی باتیں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہ کہ نواز شریف کو واپس لانے کے لیے برطانوی حکومت سے ڈی پورٹیشن کا کہا ہے، نواز شریف کو واپس لانے کے لیے دو طریقہ کار پر کام چل رہا ہے۔ نواز شریف سزا یافتہ ہیں اس لیے حکومت پاکستان کا کیس مضبوط ہے، ڈی پورٹیشن کا معاملہ ابھی دیکھا نہیں گیا، برطانیہ سے بات ہو رہی ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی تمام ٹاپ لیڈر شپ کے پاس اقامے ہیں، براڈ شیٹ چیف سے ایک دو بار مل چکا ہوں، ان سے ملاقات کر کے رقم کم کروانے کی کوشش کی۔ ماضی کے تجربے کی بنیاد پر اب ہم صرف حکومتی سطح پر کام کر رہے ہیں، حکومت پاکستان کا ایسٹ ٹریسنگ کے معاملے پر برطانیہ سے معاہدہ ہے۔ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ کم سے کم پرائیوٹ فرمز کو استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کچھ وقت کے بعد براڈ شیٹ ایسٹ ٹریسنگ کمپنی سے معاہدہ ختم کیا، ریکوریز ہونے پر براڈ شیٹ ایسٹ ٹریسنگ کمپنی معاہدے کے تحت عدالت گئی، کمپنی نے معاہدے کے تحت 20 فیصد کا مطالبہ کیا، اکتوبر 2009 میں براڈ شیٹ عدالت گئی اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ پاکستان کا دعویٰ تھا کہ براڈ شیٹ نے ہمیں اسسٹنس نہیں دی، سنہ 2016 میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ معاہدے کے تحت پاکستان پیسے ادا کرے، ہم حکومت میں آئے تو اپیل فائل کی جو سنہ 2020 تک چلی۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ نے عدالت میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ پر چارجنگ آرڈر لیا۔ براڈ شیٹ نے عدالت میں کہا ایون فیلڈ اپارٹمنٹ پر پاکستان کا انٹرسٹ ہے، جب تک ہماری رقم ادا نہ ہو تب تک اپارٹمنٹ پر کارروائی نہ ہو۔ براڈ شیٹ نے پاکستان سے رقم ملنے پر چارجنگ آرڈر واپس لیا جس سے کیس ختم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کو اقامے کی بنیاد پر دبئی سے 14 کروڑ روپے تنخواہ ملی ہے، خواجہ آصف وزیر پانی و بجلی رہے پھر وزیر خارجہ بھی بنے، وہ وزارتوں میں رہنے کے ساتھ دبئی کی کمپنی سے تنخواہ لیتے رہے۔ بطور ایم این اے وہ اقامہ کے ذریعے دبئی کے رہائشی بھی تھے۔

شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف بیماری کے بہانے سے بیرون ملک گئے، روزانہ شام کو نواز شریف کے پلیٹس لیٹس گنوائے جاتے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ذاتی انڈر ٹیکنگ پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دی تھی۔ نواز شریف اور شہباز شریف اس وقت عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں