The news is by your side.

Advertisement

شاہ زیب قتل کیس: مجرمان کی سزائے موت سمیت تمام سزائیں کالعدم قرار

کراچی: شاہ زیب قتل کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ سماعت کے لیے ماتحت عدالت کو بھیج دیا۔ عدالت نے مجرمان کی سزائے موت سمیت تمام سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔

تفصیلات کے مطابق شاہ زیب قتل کیس کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔

کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی و دیگر ملزمان کی اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ملزموں کو سزا سنائی گئی۔ سزا کے وقت شاہ رخ جتوئی کی عمر 18 سال سے کم تھی۔ مقدمہ جیونائل سسٹم کے تحت چلانا چاہیئے تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے اہم شواہد کو نظر انداز کر کے ملزموں کو سزا سنائی۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ مقدمے کی سماعت متعلقہ سیشن عدالت کرے گی۔ ماتحت عدالت قتل کے محرکات کا بھی جائزہ لے گی کہ قتل ذاتی عناد پر ہوا یا دہشت گردی ہے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ فریقین میں سمجھوتہ ہوچکا ہے صرف دہشت گردی کے پہلو کا جائزہ لینا باقی ہے۔

عدالت نے ملزمان کی سزائے موت سمیت تمام سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ سماعت کے لیے ماتحت عدالت کو بھیج دیا۔

یاد رہے کہ سنہ 2012 میں مقتول شاہ زیب خان کی بہن کے ساتھ شاہ رخ جتوئی اور اور اس کے دوست غلام مرتضیٰ لاشاری کی جانب سے بدسلوکی کی گئی جس پر شاہ زیب مشتعل ہو کر ملزمان سے بھڑ گیا۔

موقع کے وقت معاملے کو رفع دفع کردیا گیا تاہم شاہ رخ جتوئی نے بعد ازاں شاہ زیب کی گاڑی پر فائرنگ کر کے اسے قتل کردیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں