The news is by your side.

Advertisement

‘خدشات ہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے جھاڑو بھی پھر سکتا ہے’

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حالات امن کے دائرے سے باہر نکلے تو پھر کسی کے ہاتھ نہیں آئیں گے، خدشات ہیں کچھ بھی ہوسکتا ہے جھاڑو بھی پھر سکتا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے الیکشن کمیشن کے پنجاب اسمبلی کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کے فیصلے کے بعد پیدا شدہ ملکی صورتحال پر اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے ماسٹر پلان بنانے کی عالمی غلطی کی اس سے معیشت تباہ ہورہی ہے، اس ملک میں سیاسی قیامت آنے والی ہے، قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی راجا ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنانا ہے، ہمیں الیکشن کی تاریخ دیں، ملک کو الیکشن کی طرف لیکر جانا ہے، حالات امن کے دائرے سے باہر نکلے تو پھر کسی کے ہاتھ نہیں آئیں گے، خدشات ہیں کچھ بھی ہوسکتا ہے جھاڑو بھی پھر سکتا ہے۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ عمران خان واضح طور پر پورے ملک میں الیکشن چاہتا ہے، آج اپنی تقریر میں بھی کہوں گا کہ پنجاب میں بھی استعفے دیں، پنجاب اسمبلی میں استعفوں کا فیصلہ عمران خان کو کرنا پڑے گا، عوام اور عمران خان دونوں چاہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی گھر جائے، عمران خان پنجاب میں اپنے ممبران سے بھی استعفے مانگ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں 31 مئی تک فیصلہ ہوتے اور 45 دن کے اندر ملکی سیاست کو بدلتے دیکھ رہا ہوں، جو ڈھونک رچانے جارہا ہے اس سے کچھ اور نکل سکتا ہے انکی سیاست نہیں، مسلم لیگ ن 2 ٹکڑوں میں تقسیم ہورہی ہے، کل بھتیجی نے چچا سے کہا ہے کہ الیکشن کراؤ، ن لیگ کو آصف زرداری نے چوک میں رسیوں سے باندھ کر مارا ہے، بلاول بھٹو کہہ رہا ہے کہ عمران خان روس بالکل صحیح گیا تھا۔

شیخ رشید نے کبھی حکومت نے مانا ہے کہ ہم جارہے ہیں، مارچ میں ہمارے حالات خراب تھے کوئی مان رہا تھا؟ آج ملتان میں عمران خان فیصلہ کن کال دیں گے، منحصر کرتا ہے کہ عمران خان کیا تاریخ دیتے ہیں لیکن مجھے تو ستمبر میں الیکشن کی تاریخ چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر نے اس موقع پر ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر کہا کہ عمران خان آج جلسے میں کہیں تو کل میں بہادرآباد چلا جاؤں گا، وہ مجھے ایک ووٹ بغیر پیسوں کے دے دیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں