The news is by your side.

Advertisement

چوری کے الزام میں خواتین سے دکانداروں کا شرمناک سلوک

راجن پور کے بازار میں خواتین پر چوری کا الزام لگا کر دکانداروں نے شرمناک سلوک کیا اور انہیں دوپٹے سے باندھ کر بازار میں گھسیٹتے رہے، پولیس نے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولنگر کے علاقے ہارون آباد میں شرمناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں شہر کے مرکزی بازار میں خواتین پر چوری کا الزام لگا کر انہیں ہراساں کیا گیا ہے اور دکاندار ان خواتین کو دوپٹے سے باندھ کر ننگے سر بازار میں گھسیٹتے رہے، اس دوران خواتین خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہیں، واقعے کا وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی نے نوٹس لے لیا ہے۔

مذکورہ خواتین کو لیڈیز پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی میں پیدل تھانے لے جایا گیا، پولیس کے مطابق مذکورہ خواتین پر چائے کی پتی کے دو پیکٹ چوری کرنے کا الزام ہے، معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او ہارون آباد سجاد سندھو نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے علم میں پہلے چوری کی واردات تھی تاہم ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد حقائق کا پتہ چلا اور پولیس نے ذمے داروں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ ایک دکان کے مالک کو پکڑ لیا گیا ہے جب کہ دیگر ذمے داروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے بیانات بھی لیے جائیں گے، ملزم چاہے چور ہی کیوں نہ ہوں لیکن اس کے ساتھ یہ رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

دریں اثنا واقعے کے کچھ گھنٹے بعد پولیس نے خواتین کو ہراساں کرنے والے 6 ملزمان گرفتار کرلیے ہیں، گرفتار ملزمان میں حسنین، بلاول اسلم، غلام حسین، عبدالغفور، ثاقب رضا اور عاقب شامل ہیں

آئی جی کے حکم پر ڈی پی او بہاولنگر نے ہارون آباد کا دورہ کیا اور متاثرہ خواتین سے ملاقات کی۔ ڈی پی او کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اندراج مقدمہ کے بعد واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے، خواتین پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے والے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعے کا وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور آئی جی پنجاب نے نوٹس لیا تھا۔

وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے واقعے کے ذمے داروں کیخلاف قانونی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعے کی ہر پہلو سے انکوائری رپورٹ طلب کی تھی جب کہ آئی جی نے آر پی او بہاولپور سے واقعے کی رپورٹ طلب کرنے کے علاوہ ڈی پی او بہاولنگر کو ذاتی نگرانی میں واقعے کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں