The news is by your side.

Advertisement

لندن : داعشی لڑکی کی برطانوی شہریت منسوخ، والدین نے فیصلہ عدالت میں چیلنج کردیا

لندن :‌داعشی لڑکی کے اہل خانہ نے ساجد جاوید کی جانب سے شمیمہ بیگم کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے کو برطانوی عدالت میں‌ چیلنج کردیا۔

تفصیلات کے مطابق شام و عراق میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرنے والی تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی نے کچھ دن قبل برطانیہ لوٹنے کی خواہش کا اظہارکیا تھا، جس کے بعد برطانوی حکومت نے مذکورہ لڑکی کی شہریت منسوخ کردی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ شمیمہ بیگم کے اہل خانہ نے وزارت داخلہ کی جانب سے شہریت منسوخ کرنے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کردی ہے۔

شمیمہ بیگم کے اہل خانہ نے وزیر داخلہ ساجد جاوید کو ارسال کیے گئے خط میں لکھا ہے کہ ’شمیمہ کو چھوڑنا اتنا آسان نہیں اور اس کا معاملہ اب برطانوی عدالت میں ہے‘۔

تاہم داعشی لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ ’شمیمہ کے تبصروں نے انہیں پریشان کردیا ہے‘ ہم اس کے نومولود بچے برطانیہ لانے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

داعشی لڑکی نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اسے شام جانے پر کوئی افسوس نہیں ہے لیکن وہ داعش کے ہر اقدام کے اتفاق نہیں کرتی‘۔

شمیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 2017 میں مانچسٹر ایرینا حملے نے مجھے پریشان کردیا تھا جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کی ذمہ داعش نے قبول کی تھی لیکن یہ داعش کے ٹھکانوں پر اتحادی افواج کی کارروائی کا رد عمل تھا۔

مزید پڑھیں : داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی ، گھر لوٹنے کی خواہش مند

یاد رہے کہ برطانوی داعشی لڑکی نے بتایا تھا کہ ’میں فروری 2015 اپنی دو سہیلیوں 15 سالہ امیرہ عباسی، اور 16 سالہ خدیجہ سلطانہ کے ہمراہ گھر والوں سے جھوٹ کہہ کر لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ سے ترکی کے دارالحکومت استنبول پہنچی تھی جہاں سے ہم تینوں سہلیاں داعش میں شمولیت کے لیے شام چلی گئی تھیں‘۔

شمیمہ بیگم اب ایک پناہ گزین کیمپ میں زندگی گزار رہی ہے اور وہ اپنے نومولود بیٹے کی خاطر واپس برطانیہ لوٹنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں : انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے والی شمیمہ کو ایک موقع دینا چاہیے، سابق داعشی خاتون

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کسی کو شمیمہ سے ہمدردی نہیں ہے لیکن تانیہ جویا مذکورہ لڑکی کی مشکلات کے معتلق سب کچھ جاتنی ہیں، سابق داعشی خاتون تانیہ نے کہا کہ 19 سالہ لڑکی حاملہ لڑکی کو اپنے بچے کے ہمراہ برطانیہ لوٹنے کا موقع دینا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تانیہ جویا امریکا سے تعلق رکھنے والے داعش کے سینئر دہشت گرد جون کی اہلیہ تھیں جو اب مکمل طور پرسماجی بحالی کے عمل سے گزرچکی ہیں اوراب اپنے دوسرے شوہر کے ہمراہ خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔

واضح رہے کہ داعش کے ساتھ گزارے گئے دنوں میں شمیمہ کے دو بچے پیدا ہوکر ناقص طبی سہولیات اور ناکافی غذا کے سبب موت کے منہ میں جاچکے ہیں، اوراب وہ اپنے تیسرے بچے کی زندگی کے لیےبرطانیہ واپس آنا چاہتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں