site
stats
اہم ترین

جوسلوک میرےساتھ کیاگیاایسا نوازشریف کےساتھ بھی کیاجائےگا،شرجیل میمن کا سوال

کراچی : پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ نیب کے میاں صاحب اورمیرےساتھ رویےمیں فرق کیوں ہے، بڑےکیس کےباوجودنوازشریف کانام ای سی ایل میں نہیں ڈالاگیا، جو سلوک میرے ساتھ کیا گیا ایسا نوازشریف کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل میں ان لوگوں کونام ڈالا جاتا ہے، جو ملک میں ہوتے ہیں ، ملک میں نہیں تھا پھر بھی میرانام ای سی ایل میں ڈالا گیا، معلوم کیا تو پتہ چلا نیب کی درخواست پر میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، عدالت گیا تو 4مہینے بعد نیب کی جانب سے کالم نوٹس مجھے ملا۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ امید کرتا ہوں نئے چیئرمین نیب بہترین کام کریں گے، چیئرمین نیب سب سے پہلےای سی ایل میں نام ڈالنے کاطریقہ دیکھیں، ریفرنس چل رہا ہے، کیا شریف خاندان کے نام ای سی ایل میں ہیں، بڑے کیس کے باوجود نواز شریف کانام ای سی ایل میں نہیں ڈالاگیا۔

سابق صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسحاق ڈار پر کیس چل رہا ہے،وہ مزے سے دنیا گھوم رہے ہیں، اسحاق ڈار پیشیوں پر نہیں آتے اور بیرون ملک دورے کررہےہیں، اسلام آباد میں لینڈ کیا تو جہاز سے اترتے ہوئے آخری سیڑھی پر گرفتار کیا گیا۔

انھوں نے سوال کیا کہ ملک میں یہ کونسا قانون چل رہاہے، کیپٹن(ر)صفدراسلام آبادپہنچے تونیب کوایئرپورٹ کےاندرنہیں جانے دیا گیا، کیپٹن(ر)صفدر کو گرفتار کیا گیا لیکن ان کی گرفتاری شو نہیں کی گئی، کیپٹن(ر)صفدر کی گرفتاری ظاہرکی گئی تو ذاتی مچلکوں پر رہاکردیا گیا۔


مزید پڑھیں :  کرپشن کیسز میں گرفتار شرجیل میمن کی سندھ اسمبلی آمد، کارکنان کا شاندار استقبال


رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ 7 ماہ سےہرعدالت میں پیش ہورہا ہوں،عدالت سے بھاگانہیں ،کرپشن کیس کو لڑرہا ہوں، کیاشریف خاندان اورنیب میں محبت ہےیاکوئی گٹھ جوڑ ہے، مریم نوازپرمقدمات چل رہے ہیں،ان کانام ای سی ایل میں کیوں نہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ریفرنس پر دستخط سے پہلے قمرزمان چوہدری اپنے بیٹے سے پوچھ لیتے، قمرزمان چوہدری کے اپنے بیٹے کی بھی ایک اشتہارات کی ایجنسی ہے، قمرزمان چوہدری بیٹے سے پوچھتے اشتہارات کے ریٹ کاطریقہ کار کیا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ نیب افسران سے پوچھنا کہ گرفتاری کےوارنٹ ہیں یانہیں میراحق ہے، احاطہ عدالت میں تذلیل کرکےگرفتارکیاگیا، عدالت کےباہرگرفتاری پرسوموٹوبھی ہوئےاورنوٹس بھی ہوئے، عدالت کی سیڑھیوں پرگرفتارکیاگیالیکن کوئی نوٹس نہیں لیاگیا، نیب جھوٹ کیوں بول رہی ہے،بتائےنامجھےکہاں سےگرفتارکیاگیا۔

سابق صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیب کی جانب سےمیری گرفتاری مختلف علاقوں سے ظاہرکی جارہی ہے، کس فورم پرجاکرجواب پوچھوں،آئی اواپنابیان کیوں تبدیل کررہےہیں ، میاں صاحب عدالت میں پیش نہیں ہورہے، ملک میں نہیں تھا تو ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوئے، نوازشریف ملک میں نہیں ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری نہیں ہوئے، کیا جو سلوک میرےساتھ کیا گیا ایسا نوازشریف کے ساتھ بھی کیاجائے گا۔

انکا کہنا تھا کہ ایسےبہت سےلوگ ہیں جن کےوارنٹ ہی نہیں انہیں کیوں گرفتارکیاگیا، جوقانون پنجاب میں چل رہاہےوہی سندھ میں بھی چلناچاہیے، اپنےمقدمات کانیب میں ہی سامناکروں گا، چیئرمین نیب کیلئےاہم سوالات چھوڑکرجارہاہوں، ملک میں نہیں تھاپھربھی میرےخلاف ریفرنس فائل کیاگیا، ترجیح دی کہ جومقدمات میرےخلاف بنےان کاسامناکروں، میں بھی بیرون ملک بیٹھ سکتاتھاجیسےبہت سےلوگ بیٹھےہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top