رہنما پیپلز پارٹی شرجیل انعام میمن نے انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی دھرنا دینے والے جی ڈی اے اور سیاسی مخالفین کو چیلنج دے دیا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ میں کوئی ایک ضلع نہیں ہے جہاں جی ڈی اے یا ان کے اتحادیوں کو کامیابی ملی ہو، آج سیٹ چھوڑتا ہوں مقابلہ کرلیں جیت گئے تو آپ کا دھاندلی کا الزام ٹھیک ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں پیر صاحب کے مرید ہیں وہ پیپلز پارٹی نمائندے اور جیالے ہیں، جی ڈی اے اور ان کے اتحادی 5سال گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی کوئی سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوتی کسی سےنہیں ملتے جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو چوں چوں کا مربہ اکٹھا ہو جاتا ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ لوگ بیوقوف نہیں وہ دیکھتے ہیں دکھ سکھ میں کون کھڑا ہے لوگ دیکھتےہیں ہمارے لئےاسپتال کس نےبنائے، سندھ میں دل اور گردے کے مرض کا مفت علاج ہوتا ہے ڈکٹیٹرشپ کے دور میں یہ جماعتیں بڑے عہدوں پر رہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک عدم اعتماد پیپلزپارٹی نے موو کی لیکن کسی کےکہنے پر نہیں کی، تحریک عدم اعتماد کا مولانا صاحب حصہ تھے آج الزام لگانا مناسب نہیں، 2018 میں جعلی مینڈیٹ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو کامیاب کرایا گیا، پی ٹی آئی کو مینڈیٹ ملا ہم احترام کرتے ہیں۔