شرجیل میمن نےگرفتاری کواحتساب عدالت میں چیلنج کر دیا -
The news is by your side.

Advertisement

شرجیل میمن نےگرفتاری کواحتساب عدالت میں چیلنج کر دیا

کراچی: سابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے احتساب عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی گرفتاری کو غیرقانونی اورحبس بے جا قرار دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن اور دیگر ملزمان کو محکمہ اطلاعات سندھ میں پونے 6 ارب روپے کی کرپشن کے کیس کی سماعت کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں سماعت کے دوران شرجیل میمن کے وکیل نے استدعا کی کہ ان کے موکل کی گرفتاری کوغیرقانونی اورحبس بے جا قرار دیا جائے کیونکہ 23 اکتوبر کو ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری نہیں ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ وارنٹ پہلے جاری ہوچکے تھے، معطل وارنٹ درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد بحال ہو گئے۔

شرجیل میمن کے وکیل عامرنقوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر بات مانی جائے تو یہ دیگر 11 ملزمان کی غیرقانونی گرفتاری کا اعتراف ہے۔


نیب کو مسلم لیگ ن سے محبت ہے‘ شرجیل میمن


انہوں نے کہا کہ نیب کے اختیارات ہیں تو ملزمان کے بھی حقوق ہیں، گریڈ 20 کے سیکرٹری کو ہتھکڑیاں لگائی گئی ہیں۔

شرجیل مین کے وکیل نے کہا کہ نیب کا رویہ توہین عدالت کے مترادف ہے، شرجیل میمن کوہائی کورٹ کے احا طے سے گرفتارکیا گیا اور نیب نےعدالت کو پاسپورٹ آفس سے گرفتاری کا بتایا۔

عامرنقوی ایڈووکیٹ نے کہا تفتیشی افسر سے پوچھ لیں ملزمان کو کہاں سے گرفتارکیا ؟ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ملزمان کوباہر سے گرفتار کیا۔


جوسلوک میرے ساتھ کیا گیا ایسا نوازشریف کےساتھ بھی کیا جائےگا، شرجیل میمن


احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ آپ تفیشی افسر کوکیوں مشکل میں ڈال رہے ہیں، سوال رہنے دیں۔

شرجیل میمن کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شرجیل میمن اوردیگر کوجیل میں بی کلاس کی سہولت دی جائے جس پر جج نے ریماکس دیے کہ ہرملزم مانگتا ہے، ہم کتنے لوگوں کو جیل میں بہتر کلاس دیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی ہوگئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 23 اکتوبر کو قومی احتساب بیورو نے کرپشن کیس میں سابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن کو گرفتار کیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں