site
stats
صحت

برطانیہ میں خود اذیتی کا رجحان خطرناک حد تک بلند

لندن: برطانیہ میں 70 فیصد نوجوانوں میں خود اذیتی کا رجحان بڑھ رہا ہے جس نے ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

دا بی ایم جے نامی طبی جریدے میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں خصوصاً نوجوان لڑکیوں میں یہ رجحان خاصا دیکھنے میں آرہا ہے جس میں وہ خود کو جسمانی طور پر زخمی کر کے، یا زہر کی معمولی مقدار کھا کر خود کو تکلیف دیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ کیفیت بڑھ کر خودکشی کی طرف لے آتی ہے اور متاثرہ شخص خود کشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا آپ ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس رجحان میں اچانک اضافے کی وجہ جاننے سے قاصر ہیں، ہوسکتا ہے لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں زیادہ ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر اس کیفیت کا شکار ہوتی ہیں۔

تحقیق میں والدین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور جیسے ہی وہ اپنے بچوں کو پریشان دیکھیں تو فوری طور ماہرین نفسیات سے رجوع کریں تاکہ نوجوان لڑکیوں کو بڑے نقصان سے بچایا جاسکے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top