The news is by your side.

Advertisement

”حکومت قیامت ڈھانے جا رہی ہے، ہر چیز میں تباہی ہوگی“

سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ میں عوام پر قیامت ڈھانے جا رہی ہے جس سے ہر چیز میں تباہی ہوگی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ”پاور پلے“ میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ یہ بجٹ بالکل عوام دوست نہیں ہوگا، مہنگائی کا ایک نیا طوفان منڈلا رہا ہے، مزید بھی مہنگائی ہوگی، مفتاح اسماعیل خود کہہ چکے ہیں کہ ابھی مزید مہنگائی بھی ہوگی۔

شوکت ترین نے کہا کہ شرح سود بڑھنے سے بے روزگاری ہوگی اور فیکٹریاں بند ہوں گی، حکومتی اقدامات سے شرح سود 25 فیصد پر جائے گی اور مہنگائی 30 فیصد پر جائے گی، ایسی صورتحال میں کون سی فیکٹریاں چلیں گے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کے اتنے خطرناک اثرات ہوں گے جس کو کبھی نہیں دیکھا، حکومت گروتھ 2 یا 3 فیصد بھی کر جائے بڑی بات ہوگی، جو باتیں میں نے بتائی تھی وہی ہونے جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف ٹیکس لگائے گی، پراپرٹی پرٹیکس اور سپر ٹیکس لگائے گی، یہ وہ ٹیکسز لگائیں گے جو معیشت کو کوئی سہارا نہیں دے گی، لگتا ہے یہ لوگ ٹیکسز سے متعلق بھی آئی ایم ایف کی شرائط مان لیں گے۔

شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہم نے کوئی معاہدہ نہیں توڑا تھا سب کو پورا کیا، ہم روس سے تیل کے سستے معاہدے کرنے جا رہے تھے، مفتاح اسماعیل روس اس لیے نہیں جا رہے کیوں کہ امریکا سے ڈرتے ہیں، روس سے تیل لیں گے تو 50 روپے فی لیٹر سستا تیل ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو کم از کم تنخواہوں میں 35 فیصد تک اضافہ کرنا چاہیے، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، تنخواہوں میں کٹوتی کی جا رہی ہے، تنخواہ دار طبقے پر قدغن کیوں لگائی جارہی ہے دوسرے خرچے کم کریں، اس حکومت نے تو گھبرانے کی وجہ سے معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں