کراچی: محکمہ تعلیم میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ 2 ماہ میں پیش رفت کریں ورنہ انکوائری ختم کر دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش جاری ہے، مزید مہلت درکار ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا نیب کو ایک کیس کی انکوائری کے لیے 3،3 سال چاہییں، چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ آپ کی تفتیش بتا رہی ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ بھی ملزمان سے مل جاتے ہیں، کیا کمال تفتیش کرتے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ 2 ماہ میں پیش رفت کریں ورنہ انکوائری ختم کر دیں گے۔
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق نورمحمد لغاری، محمدعلی خاص خیلی پرسرکاری فائل غائب کرنے کا الزام ہے، ملزمان غیر قانونی بھرتیوں اور کرپشن میں بھی ملوث ہیں۔
بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیوں سےمتعلق کیس کی سماعت 25 جون تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے سندھ کے محکمہ تعلیم میں 70 سے زائد اساتذہ کی بھرتیاں غیرقانونی قرار دی تھیں، اساتذہ کو فریکل ٹریننگ، ڈرائینگ اور دیگر شعبوں میں بھرتی کیا گیا تھا۔