The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو کرپٹو کرنسی کے خلاف کارروائی سے روک دیا

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو کرپٹو کرنسی کے خلاف کارروائی سے روک دیا اور اسٹیٹ بینک،ایس ای سی پی،پی ٹی اے،آئی ٹی اور وزارت خزانہ کو تین ماہ میں کوئی حل نکالنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کرپٹو کرنسی پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن ، نمائندہ سیکریٹری فنانس ، ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم عدالت میں پیش ہوئے۔

وزارت خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی سے متعلق پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کرنسی ہےیا کچھ اور، کرپٹوکرنسی ایک سافٹ وئیر ہے، جس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جاپان نے 2017میں کرپٹو کولیگل قرار دیا، جوائنٹ سیکرٹری فنانس نے بتایا کہ جاپان کے اپنے ریگولیشنز ہیں۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہمارے پاس لیگل مینڈیٹ نہیں اس کا، وفاقی حکومت معاملے کا تجزیاتی جائزہ لیکر فیصلہ کرے گی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیاوفاقی حکومت نےکرپٹو کرنسی کوغیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔

جس پر درخواست گزار نے بتایا کہ ایف آئی اے سوموٹو کی طرح مقدمات درج کررہی ہے، ایف آئی اے کہتی ہے اسٹیٹ بینک نے 2017 میں غیر قانونی قراردیا۔

عدالت کرپٹو کرنسی کیلئے ہائی پاور کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تمام لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر 3ماہ میں کوئی حل نکالیں، ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم کومعاونت کےلیےطلب کیا تھا ، اسٹیٹ بینک،ایس ای سی پی،پی ٹی اے،آئی ٹی،منسٹری آف فنانس شامل ہوں گے جبکہ درخواست گزار کمیٹی کوپریزنٹیشن دیں گے اور معاونت کریں گے۔

درخواست گزار کی جانب سے وائس چانسلر کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ، عدالت نے حکم دیا کہ کمیٹی کسی بھی فرد کو طلب کرسکے گی، کمیٹی کا پہلااجلاس 25 اکتوبر کو ہوگی ، کمیٹی کا اجلاس ہر 2ہفتے میں ایک بار ہونا لازمی ہوگا۔

کمیٹی کا ایجنڈا3روز قبل ارکان سے شئیرکیا جائے، کمیٹی کا کوئی رکن پریس ریلیز یا سوشل میڈیا پر بات نہیں کرے گا اور اگر کمیٹی کا کوئی رکن دستیاب نہ ہو تو کام کو نہ روکا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے درخواست پرمزید سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کمیٹی ارکان آئندہ سماعت پر رپورٹس کے ساتھ پیش ہوں اور ڈائریکٹرایف آئی اےکریپٹوکرنسی کاروبار کےخلاف کارروائی نہ کریں۔

گذشتہ سماعت میں جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا تھا کہ کرپٹو کرنسی پر پابندی کس نے لگائی ہے؟ کیا اسٹیٹ بینک نے پابندی لگائی ہے؟ کیوں پابندی لگائی ہے؟ جس پر اسٹیٹ بینک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیجیٹل کرنسی غلط طریقے سے استمال ہوسکتی ہے، اس لیے پابندی لگائی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ قانون سازی کس کا کام ہے؟ غلط کاموں میں استعمال کی روک تھام کرنا کس کا کام ہے؟ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ کئی افراد کا زریعہ معاش کرپٹو کرنسی سے وابستہ ہے، پاکستان میں کئی غیر رجسٹرڈ کمپنیاں ڈیجیٹل کرنسی میں کام کررہی ہیں، کئی ممالک میں ڈیجیٹل کرنسی میں کاروبار کرنے کی اجازت ہے، اسٹیٹ بینک بٹ کوائن کا اکاونٹ نہیں کھول رہا۔

خیال رہے ڈیجیٹل کرنسی پر پابندی کے خلاف شہری نے درخواست دائر کررکھی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں