سندھ ہائی کورٹ کا نیب کو میئرکراچی وسیم اختر کے خلاف درخواست کا جائزہ لینے کا حکم
The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائی کورٹ کا نیب کو میئرکراچی وسیم اختر کے خلاف درخواست کا جائزہ لینے کا حکم

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف درخواست کا جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے فیصل واوڈا کی درخواست نمٹادی، چیف جسٹس نے حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہم نیب کوحکم نہیں دے رہے، نیب معاملے کا قانون کے مطابق جائزہ لے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف فیصل واوڈا کی درخواست پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا نیب میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف فیصل واوڈاکی درخواست کاجائزہ لے۔

وکیل فیصل واوڈا نے کہا عدالت نیب کوباقاعدہ تحقیقات کاحکم دے، جس پر عدالت نے واضح کیا ہم نیب کوحکم نہیں دے رہے، نیب معاملے کا قانون کے مطابق جائزہ لے۔

آپ تو وفاقی حکومت کا حصہ ہیں،نیب سے کیوں تحقیقات نہیں کراتے ، کرپشن کےخلاف تووفاقی حکومت بھی تحقیقات کراسکتی ہے

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ

چیف جسٹس نے فیصل واوڈاکےوکیل سےمکالمے میں کہا کون کتنا صادق اور امین ہیں, پنڈورا باکس کھل جائے گا، آپ تو وفاقی حکومت کا حصہ ہیں، پھر حکومت کیا کر رہی ہے ،نیب سے کیوں تحقیقات نہیں کراتے ، کرپشن کےخلاف تووفاقی حکومت بھی تحقیقات کراسکتی ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا نیب بتائے، نیب کیا قانونی رائے رکھتی ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا عدالت نیب کو جو حکم دےگی قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔

بعد ازاں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے شہری حکومت کی مبینہ اربوں روپے کے فنڈز میں خردبرد کے معاملے پر وسیم اختر کے خلاف فیصل واوڈاکی درخواست نمٹا دی۔

یاد رہے جولائی 2018 پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا نے شہری حکومت کی مبینہ اربوں روپے کے فنڈز میں خردبرد سے متعلق مئیر کراچی وسیم اختر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 20 ماہ میں مئر کراچی وسیم اختر کو شہر کے ترقیاتی کاموں کے لیے اربوں روپے جاری کئے گئے ، اس کے باوجود شہر کی حالت نہیں بدلی، ہر شعبے میں کرپشن اور مالی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ کے ایم سی کے فنڈز کا آزاد آڈیٹ کرانے اور چیئرمین نیب کو وسیم اختر کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی ہدایت کی جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں