The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کو ایک ماہ سے زائد پیشگی فیس لینے سے روک دیا

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نےنجی اسکولوں کوایک ماہ سے زائد پیشگی فیس لینے سے روک دیا، عدالت نے دو دو تین تین مہینے کی اکٹھی فیس مانگنے   پر  برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ لوگ تو ٹیکس کے محکمےسے بھی آگے نکل گئے ہیں،ابھی نرمی سے کام لے رہے ہیں سختی پر مجبور نہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں اسکول فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،سماعت عدالت نے ایک ماہ سے زائد پیشگی اسکول فیس وصولی سے روک دیا۔

نجی اسکولز کی جانب سے 2 اور 3ماہ کی پیشگی فیس طلب کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ لوگ تو ٹیکس کے محکمےسے بھی آگے نکل گئے ہیں، عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہ کریں،عدالت ابھی نرمی سے کام لے رہے ہیں سختی پر مجبور نہ کریں ۔

عدالت نے استفسار کیا کیا اساتذہ کو بھی 3ماہ کی تنخواہ پیشگی دیتے ہیں ؟ 50 ہزار روپے پر دستخط کرا کے 25 ہزار روپے دیتے ہیں طلباکو 3ماہ کی فیس کا چالان دیتےہیں، کیا سپریم کورٹ سے حق میں فیصلے کا انتظار کررہے ہیں؟

جسٹس عقیل عباسی نے کہا مئی میں سیشن ختم ہوجائےگا تو جون اور جولائی کی فیس کا کیا جواز ؟ سیشن ختم ہونے کے بعد تو فیس ہی غیر قانونی ہوگی ، عدالت ہم بار بار سمجھا رہے ہیں مگر آپ لوگ سمجھنے کوتیار نہیں۔

عدالت نے سکول انتظامیہ کو نیا فیس چالان جاری کرنے کے لیے 15 اپریل تک کی مہلت دی دے۔

مزید پڑھیں : سندھ ہائی کورٹ نے اسکولوں کو تین ماہ کی پیشگی فیس لینے سے روک دیا

یاد رہے سندھ ہائی کورٹ نے ستمبر 2017 سے قبل کا فیس اسٹرکچر بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے نجی اسکولوں کو تین ماہ کی پیشگی فیس لینے سے روک دیا تھا اور کہا اگر فیس وصول کربھی لی گئی ہے تو ایسے ایڈجسٹ کیا جائے ورنہ توہین عدالت میں فرد جرم عائد کریں گے۔

عدالت نے کہا تھا پرائیویٹ اسکول بس کریں والدین کو پریشان نہ کریں، زائد فیسوں کی وصولی کسی صورت قبول نہیں جو فیس لی گئی ہے وہ واپس کرنا ہوگی۔

سندھ ہائی کورٹ نے ڈائریکٹر نجی اسکول سے فیس اسٹرکچر سے متعلق جواب بھی طلب کرلیا تھا اور نجی اسکولوں کو تنبیہ کی تھی کہ باز آجائیں ورنہ پبلک آڈٹ اور اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم بھی دیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں