The news is by your side.

Advertisement

کون ہے اتنا طاقتور جو دعا زہرا کی بازیابی میں رکاوٹ بن رہا ہے ؟ عدالت پولیس پر برہم

کراچی : سندھ ہائی کورٹ   نے آج بھی دعا زہرا کو پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کون ہے اتنا طاقتور جو دعا زہرا کی بازیابی میں رکاوٹ بن رہا ہے ؟

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دعازہرہ کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی ، آئی جی سندھ کامران فضل،ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ دعا زہرا مانسہرہ کے قریب کسی مقام پر ہے، اے جی سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس میں سے کوئی ان کی مدد کررہا ہے ، چھاپے کی اطلاع لیک ہوجاتی ہے ، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے تجویز دی کہ ڈی آئی جی ہزارہ کو طلب کرکے رپورٹ لیں۔

عدالت نے استتفسار کیا کیا دوسرے صوبے کی پولیس بھی ہمارے دائرہ کارمیں آتی ہے ، اب کہے رہے ہیں ڈی آئی جی ان کی مدد کررہا ہے ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ڈی آئی جی مدد کررہا ہے ، پولیس والے اور کچھ وکلاانکی مدد کررہے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا ہم ڈی آئی جی ،ایس ایس پی کو حکم دے سکتے ہیں ،اےجی سندھ نے بتایا کہ وہاں کے افسران آئی جی سندھ کے ساتھ رابطے میں ہیں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں آج دےدیں گے کل دے دیں گے۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بھی پولیس یہاں آکر یہی بتارہی ہے ، یہ ہمارا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ، ایک بچی لاپتہ ہے، ہم نے آپ کو ہر طرح کی رعایت دی ہے۔

جسٹس اقبال کلہوڑو کا کہنا تھا کہ آپ چاہتے ہیں آپ کا کا کام وہاں کے ڈی آئی جی وغیرہ کریں ، کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں توہم کیا کریں گے، کیا صوبے کی پولیس اتنی نا اہل ہوچکی ہے ، عدالت 21دن سے احکامات جاری کررہی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا پولیس بازیاب نہیں کرائے گی توکون بچی کو بازیاب کرائے گا، وفاقی سیکریٹری داخلہ نے کیا کہا ہے ، کون ہے اتنا طاقتور جو لڑکی کی بازیابی میں رکاوٹ بن رہا ہے ؟

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ کچھ وکلا بھی شامل ہیں جوسپورٹ کررہے ہیں ، جس پر جسٹس اقبال کلہوڑو کا کہنا تھا کہ تو کیا ہوا کوئی جج بھی ہے تو آپ کارروائی کریں۔

پولیس نے بتایا کہ ایک وکیل ہے، وسیم وہ تعاون کررہا ہے، گڑھی حبیب اللہ میں لوکیشن آئی، گڑھی حبیب اللہ میں چھاپہ مارا گیا گاڑی بھی ریکور ہوئی ہے، جس پر جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیئے کہ اپنی محنت کادسواں حصہ کارروائی میں لگاتے تو لڑکی بازیاب ہوجاتی۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا ہم آئی جی کو شوکاز نوٹس جاری کررہے ہیں ، کچھ دیر میں آرڈر پاس کردیں گے،جمعہ تک بازیاب کرالیں تو شوکاز واپس لے لیں گے ، آپ نے کہا اور ادھر خبریں چل گئی ہوں گی، خبروں کی پرواہ نہیں کریں ، ہمیں ان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، ہم نے آئین کی پاسداری کا حلف لیا ہے ،اس پر عمل کریں گے، ہمیں خبروں کی نہیں بچی کی فکر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں