The news is by your side.

Advertisement

پانی کے معیار پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، سندھ ہائی کورٹ

کراچی: پانی کی فروخت سے متعلق کمپنیوں کی رجسٹریشن کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیے کہ معاملہ امیروغریب کا نہیں پانی کے معیار کا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ پانی کی فروخت سے متعلق کمپنیوں کی رجسٹریشن کے کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ شہریوں کوجو پانی فروخت کیا جا رہا ہے اس کا معیاری ہونا ضروری ہے، بڑی کمپنیاں پلانٹس کی تنصیب کے بعد سے جانچ کا عمل پورا کرتی ہیں۔

درخواست گزار نے کہا کہ ہم توغریب بستیوں میں صاف پانی مہیا کررہے ہیں جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ معاملہ امیر و غریب کا نہیں پانی کے معیار کا ہے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دیگر کمپنیاں سیلڈ بوتلوں میں پانی فروخت کرتی ہیں، رجسٹریشن کی شرط 400 گز کی فیکٹری یا دکان پر لاگو ہوتی ہے، ہم چھوٹی چھوٹی دکانوں کو آر او پلانٹس فراہم کرتے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پانی کے معیار پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، رجسٹریشن ضروری ہے۔

عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 9 اپریل کو پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

کراچی اورحیدرآباد میں ٹائی فائڈ پھیلنے کا سبب آلودہ پانی ہے: ڈاکٹرعذرا پیچوہو

یاد رہے کہ رواں سال 30 جنوری کو سندھ اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اعتراف کیا تھا کہ صاف پانی کی عدم فراہمی کراچی اور حیدر آباد میں ٹائی فائیڈ کا مرض پھیلنے کا سبب ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں