The news is by your side.

Advertisement

شیریں مزاری کو گرفتار کرکے حکومت نے اعلان جنگ کردیا ہے، پی ٹی آئی رہنما

سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری کیخلاف پی ٹی آئی رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی جانب سے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے شدید ردعمل دیا ہے اور رہنماؤں کی بڑی تعداد تھانہ کوہسار کے باہر جمع ہوگئے ہیں۔

فواد چوہدری نے شیریں مزاری کی گرفتاری پر تھانہ کوہسار کے باہر اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک کی سب سے پہلی اور بڑی گرفتاری ہے، شیریں مزاری یہاں نہیں ہیں اور کہاں ہیں ابھی تک کچھ علم نہیں ہے، عمران خان کچھ دیرمیں اس پربات بھی کریں گے، شیریں مزاری کو گرفتار کرکے اعلان جنگ کردیا ہے اب اگر لڑائی ہونی ہے تو پھر لڑائی ہونی ہے۔ اس معاملے پر جلد قانونی اور سیاسی لائحہ عمل اختیار کریں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ 700 افراد سے متعلق لسٹ بنائی گئی ہے، حکومت کی موت آتی ہے تو وہ ایسی حرکتیں کرتی ہے، شیریں مزاری کو مرد اہلکاروں نے گرفتار کیا ہے، شیریں مزاری کی 1966 کی پیدائش ہے،  1970 کا مقدمہ ڈال کیا؟ کیا چار سال کی بچی پر مقدمہ بنادیں گے۔

سابق وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے پہلا وار خاتون لیڈر پر کیا ہے، شیریں مزاری کو جس طرح گرفتار کیا گیا پارٹی جلد لائحہ عمل دے گی، فواد چوہدری نے صحیح کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتار نہیں اغوا کیا گیا ہے اور انہیں جس طریقے سے اغوا کیا گیا اس کی مذمت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ حکومت بوکھلا گئی ہے، باہر بیٹھ کر فیصلے ہوچکے ہیں کہ آزاد آوازوں کو کچلا جائے گا، شیریں مزاری کا قصور یہ ہے کہ وہ سچ کی آواز ہیں اور وہ کسی عالمی سازش کے سامنے جھکنے کیلیے تیار نہیں ہیں، پارٹی کا ہر رکن شیریں مزاری پر بہت فخرکرتا ہے، آپ ایک آواز دبائیں گے 10 آوازیں اٹھیں گی، قوم کی ہربیٹی شیریں مزاری ہے اور قوم کی ہر بیٹی شیریں مزاری کی طرح بولے گی۔

شہباز گل نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے ملکی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے، کپتان کا پیغام ہے کہ ہمیں آزادی کی حفاظت کرنی ہے، ہم ایک آزاد ریاست ہیں اور ملکی سلامتی وخود مختاری پر کوئی سمجھوتہ اور سودا نہیں کرینگے۔

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ شیریں مزاری کو نہایت بھونڈے طریقے سے اغوا کیا گیا، آمرانہ ہتھکنڈے حقیقی آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، تحریک سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے، امپورٹڈ کٹھ پتلی سرکار کا جانا ٹھہر گیا ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے اور شیریں مزاری کو بازیاب کرائے۔

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو امپورٹڈ حکومت کی بوکھلاہٹ کی نشانی قرار دیا ہے اور اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت خود معاملات کو کشیدگی کی طرف دھکیل رہی ہے،ایک قاتل وزیر داخلہ مقدمات لگانے میں پھرتیاں دکھا رہا ہے، اگر اتنی ہی پھرتی دیکر معاملات میں لگاتے تو حکومت کو شرمندگی نہیں ہوتی۔

علی محمد خان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری موجودہ حکومت کی انتہائی بزدلانہ حرکت ہے، مطلب حکومت گھبرائی نہیں بلکہ بہت گھبرائی ہوئی ہے، شیریں مزاری کو فوری رہا کیا جائے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ ظلم اور بربریت ہے، ان سے کوئی اچھی توقع نہیں کی جا سکتی، یہ ظالم لوگ ہیں انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں بھی گولیاں چلائی تھیں، یہ لوگ کل رات سے خواتین کے احترام کی باتیں کر رہے تھے،کوئی وارنٹ دکھائے نہ مقدمے کےحوالے سے نوٹس جاری کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شیریں مزاری واضح موقف اپناتی ہیں اس لیے حکومت ان سے خائف تھی، پی ٹی آئی حکومت کے اعصاب پر سوار ہوچکی ہے۔ عندلیب عباس نے کہا کہ شیر یں مزاری کو پکڑنا ان بزدل بلیک میلرز کی گھٹیا پن کی انتہا ہے۔

پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، ن لیگ انتقامی سیاست سے باز رہے اور یہ نہ بھولیں کہ آپ کی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے، جیسا بوئے گی ویسا ہی کاٹے گی

اعظم سواتی نے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتار کرنے والوں کا دیکھنا کیا حشر ہوتا ہے ایسے لوگ ملک کے حکمران نہیں ہوسکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں