The news is by your side.

Advertisement

شہبازشریف کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی زیرصدات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں آڈیٹر جنرل پاکستان نے بریفنگ دی۔

تفصیلات کے مطابق  شہباز شریف کے زیرِ صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں  بتایا گیا کہ  گزشتہ مالی سال میں 160 ارب روپے ریکور کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں کمیٹی نے سوال کیا کہ مالی بےضابطگی میں ملوث ریٹائرڈافرادکے خلاف کیاکارروائی ہوتی ہے؟، جس پر آڈٹ حکام نے جواب دیا کہ ریٹائرڈسرکاری ملازمین کی پنشن یاجائیدادسےریکوری کی جاتی ہے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے  کہا کہ  جن سےریکوری ہوئی ان کےخلاف کارروائی کی رپورٹ دیں، اس موقع پر کمیٹی کے رکن  شبلی فراز نے کہا کہ دوران سروس ملازمین سےریکوریوں سےمتعلق بھی ڈیٹادیں۔

اس موقع پر شہباز شریف نے سوال کیا کہ منصوبےمیں مقررہ مدت سےزیادہ وقت لگےتوکیاکرتےہیں، جس پر  آڈٹ حکام نے جواب دیا کہ مقررہ مدت اورزائداخراجات کی آڈٹ حکام نشاندہی کرتےہیں۔ اس پر شہباز شریف نے ہدایت کی کہ  کمیٹی کےاراکین کوپیپراقوانین کی کاپی دی جائے۔

اجلاس میں آڈیٹر جنرل پاکستان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آڈیٹر جنرل کے 30دفاتر ہیں جن میں 4ہزار سے زائد اہلکار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا   کہ مالی سال دو ہزار سترہ اٹھارہ میں 160 ارب ریکورکیے جبکہ  اسی دورانیے  میں ادارے کے اخراجات 4ارب ساٹھ کروڑ روپے رہے۔

آڈیٹرجنرل کےدائرہ اختیارمیں سالانہ47ہزارشعبہ جات اورمنصوبےآتےہیں اور ان میں سے محض 20فیصد کا آڈٹ ہوپاتاہے۔2016-17ادارےنے70ارب 92کروڑ86لاکھ ریکورکئے۔ آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ سال میں آڈیٹرجنرل کےپاس18043آڈٹ اعتراضات زیرالتواء ہیں،زیادہ  مالی سال18-2017کے3098آڈٹ اعتراضات زیرالتواہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ادارہ آئین کی شق 168اور171 کے تحت کام کر رہا ہے اور ہمارے کام کامقصداداروں میں شفافیت کویقینی بنانا ہے۔آڈیٹرجنرل کا کہنا ہے کہ ادارہ پارلیمنٹ اورانتظامیہ کےساتھ مل کر کام کرتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں