قومی اسمبلی اجلاس: شہباز شریف کے اداروں پر بھرپور الزامات -
The news is by your side.

Advertisement

قومی اسمبلی اجلاس: شہباز شریف کے اداروں پر بھرپور الزامات

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور نیب کے زیر حراست اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پروڈکشن آرڈر کے تحت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے تو اپنے خطاب میں انہوں نے اداروں پر الزامات کی بھرمار کردی۔

تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ احتساب (نیب) کی زیر حراست اپوزیشن لیڈر شہباز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے۔ شہباز شریف نے بلاول بھٹو اور راجہ پرویز اشرف سے ہاتھ ملایا۔

اس موقع پر قومی اسمبلی میں ن لیگی ارکان نے ’شیر آیا شیر آیا‘ کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

اجلاس میں شہبازشریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب کے پروڈکشن آرڈر نکالنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اسپیکر صاحب نے پارٹی سے بالاتر ہو کر پروڈکشن آرڈر جاری کیے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب نے قانونی اور آئینی ذمہ داری ادا کی، تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے پروڈکشن آرڈر جاری کروانے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلا موقع ہے اپوزیشن لیڈر کو بغیر کسی چارج کے گرفتار کیا گیا، منتخب اپوزیشن لیڈر کو بغیر کسی چارج کے اور بھونڈے طریقے سے گرفتار کیا گیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں پاکستان تحریک انصاف اور نیب کے اتحاد پر بات کرنا چاہتا ہوں، ن لیگ کے لیڈرز کے خلاف 13 مئی کو دہشت گردی کے پرچے کاٹے گئے۔ ہمارے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت پرچے درج ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ نیب میں حاضریاں اور گرفتاریاں ن لیگی اراکین کی ہوئیں۔ چیئرمین نیب نے میری گرفتاری کے آرڈرز 6 سے 13 جولائی کے درمیان دیا تھا۔ ’شیخ رشید نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا کہ شہباز شریف جیل کی ہوا کھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن کے دوران میری گرفتاری کے مؤخر فیصلے پر عملدر آمد کیا گیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دو ماہ میں اتنی بڑی تبدیلی آجائے، ’عام الیکشن جعلی تھے یا ضمنی انتخابات کے نتائج جعلی ہیں‘۔

شہباز شریف نے ضمنی الیکشن جیتنے والے نو منتخب ارکان اسمبلی کو مبارکباد دی۔ نو منتخب ممبرز کے حلف اٹھانے کے بعد پارلیمنٹ مزید مضبوط ہوگی۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ نیب حزب اختلاف کی جماعتوں کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔ نیب کا صفحہ 170 پکار پکار کر کہتا ہے نواز شریف نے کرپشن نہیں کی، بیٹی کے سامنے باپ اور باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کیا گیا۔ ’ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور مشکل سوالات کا جواب دینا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے کیس کے دفاع اور رونے دھونے قومی اسمبلی نہیں آیا، ان راستوں سے پہلے بھی گزر چکے ہیں یہ نئی بات نہیں، میری جھولی میں عوامی خدمت کے سوا کچھ نہیں۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ فیصلہ ایوان نے کرنا ہے وہی جنگل کا قانون ہوگا۔ ہٹلر کا انجام یاد رکھنا چاہیئے، نیب کے عقوبت خانے میں ہوا کا گزر نہیں، سورج نظر نہیں آتا۔ سیاست دان سختیاں برداشت کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ جنہوں نے تعلیم کا معرکہ عبور کیا انہی کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔

اس سے قبل پولیس اور نیب راولپنڈی کی ٹیمیں شہباز شریف کو ایئرپورٹ سے پارلیمنٹ تک لائیں۔ نیب ٹیم نے شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے سارجنٹ آرمز کے حوالے کیا، قومی اسمبلی اجلاس کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز شہباز شریف کو نیب ٹیم کے حوالے کریں گے۔

شہباز شریف نیب حکام کی اجازت کے بغیر کسی سے نہیں مل سکیں گے۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد نیب ٹیم دوبارہ انہیں لاہور نیب آفس لے آئے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 30 اکتوبر تک توسیع کی تھی۔

اس سے قبل نیب لاہور نے رواں ماہ 5 اکتوبر کو شہبازشریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم ان کی پیشی پر انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں