The news is by your side.

Advertisement

عالمی امداد میں کمی سے افغان مہاجرین کی بہبود اور فلاح کا عمل متاثر ہوگا، شہریار آفریدی

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے سیفران و انسداد منشیات شہریار خان آفریدی سے امریکا کے قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری فار ساؤتھ ایشیاء ایلس ویلز اور امریکی سفیر پال جونز نے ملاقات کی اس موقع پر افغان مہاجرین کا موضوع زیربحث آیا۔

تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال، افغان امن عمل، افغان مہاجرین کی باوقار وطن واپسی اور ان کے ویزے کے اجراء اور دیگر امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

ملاقات کے دوران امریکی وفد نے افغان مہاجرین کی مدد کیلئے امریکی حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ ایلس ویلز نے حکومت پاکستان کی گزشتہ 40 برس سے لاکھوں افغان مہاجرین کی فراخدلانہ مہمان نوازی اور امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افغان مہاجرین کیلئے امداد پر عالمی برادری اور امریکی حکومت پاکستان کی شکر گذار ہیں۔

ایلس ویلز نے شہریار آفریدی سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کیلئے ویزا پالیسی اور پاسپورٹ کے اجراء کے امور زیر غور لانے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم افغان بزنس کمیونٹی کو مرکزی دھارے میں لانے سے حکومت پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

دریں اثنا امریکی حکومت کی افغان مہاجرین کیلئے مسلسل سفارتی اور مالی معاونت کو سراہتے ہوئے وزیر سیفران شہر یار آفریدی نے کہا کہ حکومت افغان مہاجرین کو پاکستان میں ان کے عارضی قیام کے دوران ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔

افغان مہاجرین کے لیے انسانیت کی وہ مثالیں قائم کیں جن کا جواب نہیں: شہریار آفریدی

انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں 40 سالہ قیام کے دوران افغان مہاجرین اور پاکستانی شہریوں کے درمیان کوئی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔

وزیر سیفران شہریار آفریدی نے عالمی برادری کی جانب سے افغان مہاجرین کیلئے امداد میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امداد میں کمی سے افغان مہاجرین کی بہبود اور فلاح کا عمل متاثر ہوگا اور خصوصا تعلیم اور صحت کے شعبے متاثر ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں