The news is by your side.

Advertisement

طوطی بولتا ہے!

تذکیر و تانیث پر دہلی اور اودھ کے اسکولوں میں بڑی معرکہ آرائی رہی۔ یہ اردو کی خوش قسمتی ہے کہ اسے دو اسکولوں نے اپنایا۔ دہلی نے جہاں اسے عظمت عطا کی، وہیں اودھ نے اس کے حُسن میں چار چاند لگائے۔

ظاہر ہے بعض چیزوں میں اختلاف بھی ہوا، لیکن ہم دونوں اسکولوں کی نیت پر شبہ نہیں کر سکتے کہ دونوں ہی اس زبان کے عاشق تھے۔ میرے نزدیک ایسے اختلافات کو بنیاد بنا کر بحث و مباحثہ کرنا تضیعِ اوقات ہے۔ البتہ اس سلسلے میں جو لطائف سامنے آئیں ان سے محظوظ ضرور ہوا جا سکتا ہے۔

ایسے واقعات نہ تو کسی اسکول کی طرف داری میں پیش کیے جاتے ہیں اور نہ ہی مقصد کسی کی تضحیک ہوتا ہے، یہ صرف تفننِ طبع کے لیے ہیں۔

ایک مرتبہ استاد ابراہیم ذوق نے اپنی ایک غزل سنائی جس کا شعر تھا:

ہے قفس سے شور اک گلشن تلک فریاد کا
خوب طوطی بولتا ہے ان دنوں صیّاد کا

شعر سنتے ہی ان کے ایک لکھنوی دوست نے ٹوکا اور کہا حضرت آپ نے طوطی کو مذکر کیسے باندھا جب کہ اس میں علامتِ تانیث کے طور پر یائے معروف موجود ہے۔

استاد نے کہا کہ محاورے پر کسی کا اجارہ نہیں۔ آپ میرے ساتھ چوک چلیے جہاں چڑی ماروں کا ٹولہ آتا ہے اور سنیے وہ کیا ہانک لگاتا ہے۔

دونوں جامع مسجد، دہلی کے ساتھ لگنے والے بازار پہنچے۔ وہاں بہت سے چڑی مار تیتر، بٹیر، مینا، بیا اور طرح طرح کے پنچھی لیے بیٹھے تھے۔ ایک بانکا طولی لیے چلا آتا تھا۔ استاد ذوق نے کہا۔ ذرا ان سے تو دریافت کیجیے۔ اس شخص نے بے تکلفی سے پوچھا۔

بھیا آپ کی طوطی کیسے بولتی ہے۔ اس نے جواب دیا: بولتی تمہاری ہوگی، یاروں کا طوطی خوب بولتا ہے۔

یہ سن ذوق نے کہا۔ اس پر نہ جائیے کہ یہ ان لوگوں کی زبان ہے، یہی دہلی کے خواص کی زبان بھی ہے۔

( زبان و ادب سے متعلق تذکروں‌ سے انتخاب، سید احمد دہلوی نے فرہنگِ آصفیہ میں اس واقعہ کو زیادہ تفصیل سے نقل کیا ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں