The news is by your side.

ممتازعالم دین شیخ علامہ یوسف القرضاوی رحلت فرماگئے

دوحہ: دنیائے اسلام کے ممتاز عالم دین اور کئی کتابوں کے مصنف علامہ یوسف القرضاوی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق معروف عالم دین اور اخوان المسلمین سے وابستہ علامہ یوسف القرضاوی انتقال کرگئے، ان کی عمر چھیانوے برس تھی۔

پیر کو ان کے انتقال کا اعلان ان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کیا گیا، سال دو ہزار تیرہ میں مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے والی فوجی بغاوت کے خلاف انہوں نے سخت تنقید کی تھی جبکہ محمد مرسی کے صدر بننے سے پہلے وہ اخوان المسلمون کے رکن تھے، اور انہیں تحریک کی حمایت حاصل تھی۔

Image

 گزشتہ چار دہائی سے قطر میں قیام پذیر علامہ القرضاوی ایک سو سے زائد کتابوں کے مصنف تھے، اکثر کتابوں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے، اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی آپ کے چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں موجود ہے۔Image

علامہ القرضاوی کے معتقدین ومحبین کا ایک بڑا حلقہ ہے جو عرب ممالک سے لے کر یورپ، امریکا اور برصغیر تک پھیلا ہوا ہے، آپ کو دنیا بھر میں مجتہد، مجدد اور مفکر کی حیثیت سے جاناجاتا ہے، آپ کو عالم اسلام میں سب سے بڑے اسلامی اسکالر، فقیہ اور عالم دین کی حیثیت حاصل تھی۔

حالات زندگی اور تعلیم

یوسف القرضاوی 1926 کو پیدا ہوئے اور مصر میں اپنی تعلیم مکمل کی، اخوان المسلمین سے وابستہ رہے اور عملی جدوجہد میں حصہ لیا جس کی پاداش میں 1950 کو جمال عبدالناصر کے دور میں گرفتار بھی ہوئے۔

علامہ یوسف القرضاوی 1960 کی دہائی کے اوائل میں مصر سے قطر کے لیے روانہ ہوئے اور قطر یونیورسٹی میں فیکلٹی آف شریعہ کے ڈین کے طور پر خدمات انجام دیں جس کی بنیاد پر انھیں 1968 قطری شہریت دی گئی۔Image

فروری 2011 کو قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں لاکھوں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ یوسف القرضاوی نے یہ سنہری ہدایات جاری کہ اس انقلاب کو ان منافقوں کے ہاتھوں چوری نہ ہونے دیں جنھوں نے اپنا مکروہ چہرہ چھپایا ہوا ہے، ابھی انقلاب کا سفر ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی مصر کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے اس لیے اپنے انقلاب کی حفاظت کرو۔

عالم دنیا سوگ میں ڈوب گیا

شیخ علامہ یوسف القرضاوی کے انتقال پر علمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے،  دہلی کے سماجی کارکن ابوالاعلیٰ سبحانی ابوالاعلیٰ نے لکھا کہ’ عالم اسلام کی یہ واحد شخصیت تھی، جس کا ہر مسلک، ہر مکتب فکر اور ہر نظریہ کا حامل شخص دل وجان سے احترام کرتا تھا، قرضاوی نہیں رہے، سچ یہ ہے کہ اب بہت کچھ نہیں رہا۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں