شیل آئل کمپنی سانحہ احمد پور شرقیہ کی ذمہ دار قرار -
The news is by your side.

Advertisement

شیل آئل کمپنی سانحہ احمد پور شرقیہ کی ذمہ دار قرار

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے سانحہ احمد پور شرقیہ کا ذمہ دار شیل آئل کمپنی کو قرار دے دیا۔ کمپنی پر 1 کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے سانحہ احمد پور شرقیہ کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں شیل آئل کمپنی کو قصور وار قرار دیتے ہوئے 1 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

اوگرا کا کہنا ہے کہ کمپنی کا آئل ٹینکر غیر معیاری تھا۔ ٹینکر نے اوگرا اور ایکسپلوسوز ڈپارٹمنٹ کے قوانین پورے نہیں کیے۔

اوگرا کے مطابق آئل ٹینکر کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جعلی تھا جبکہ ٹینکر تکنیکی معیار پر بھی پورا نہیں اترتا تھا۔ 50 ہزار لیٹر تیل کی ترسیل کے لیے 5 ایکسل کا ٹینکر استعمال ہوتا ہے جبکہ حادثے کا شکار ٹینکر 4 ایکسل کا تھا۔

مزید پڑھیں: سانحہ احمد پور شرقیہ، ڈی ایس پی سمیت 5 پولیس افسران معطل

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی انتظامیہ بھی بر وقت حرکت میں نہیں آئی۔ ٹینکر سے تیل بہتا رہا مگر جائے حادثہ کو محفوظ نہیں بنایا گیا۔ مقامی آبادی تیل برتنوں میں بھرتی رہی۔

اوگرا نے شیل کو ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ فی کس جبکہ زخمیوں کو 5 لاکھ فی کس دینے کا حکم دیا ہے۔

اوگرا کے مطابق فیصلے پر فوری عمل نہ ہونے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ عید الفطر سے ایک روز قبل 25 جون کو صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپورمیں احمد پور شرقیہ کے نزدیک قومی شاہراہ پر تیل لے جانے والا ٹرک الٹ گیا تھا۔

ٹرک سے بڑی مقدار میں تیل بہنا شروع ہوگیا جس کے بعد قریبی آبادی موقع پر جمع ہوگئی اور تیل برتنوں میں بھر کر لے جانے لگی۔

اسی دوران اچانک ٹینکر میں دھماکہ ہوا جس کے بعد وہاں تیل جمع کرتے سینکڑوں افراد لمحوں میں آگ کی زد میں آگئے۔ حادثے میں ٹرک ڈرائیور سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

ہلاکتوں میں اضافہ جاری

سانحہ احمد پور شرقیہ کے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا عمل جاری ہے اور آج مزید 2 زخمی دم توڑنے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 218 ہوگئی ہے۔

حادثے میں جھلسنے والے مزید 38 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

بہاولپور کے وکٹوریہ اسپتال میں فی الوقت 18، تحصیل ہیڈ کوراٹر احمد پور اور نشتر اسپتال ملتان میں 8، 8 جبکہ جناح اسپتال لاہور میں 4 زخمی زیر علاج ہیں۔

سانحہ کے 22 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد فارغ بھی کیا جاچکا ہے۔ زخمیوں میں سے 12 کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

دوسری جانب اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے کی 125 ناقابل شناخت لاشوں کی تصدیق کے لیے 132 ورثا کے نمونے ڈی این اے کے لیے لیے جا چکے ہیں۔ 93 جسد خاکی شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں