The news is by your side.

Advertisement

شیری رحمان نے سائبرکرائم بل کوغیر انسانی قراردے دیا

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک کرائم بل غیرانسانی ہے اوراسے سینٹ سے ہرگزمنظور نہیں ہونا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بل اگرپارلیمنٹ کے ذریعے نافذ العمل ہوگیا تو اس کے حقیقی مقصد یعنی سائبردہشت گردی کی روک تھام کے بجائے حکمران جماعت اسے اختلاف رائے پرپابندی کے لئے استعمال کرے گی۔

شیری رحمان نے یہ بھی کہا کہ اس بل میں ایسی شقیں شامل ہیں جنہیں باآسانی غلط انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بل شخصی آزادی کے حق کے منافی ہے اور جہاں یہ ایک جانب آزادی اظہاررائے کا حق صلب کرتا ہے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فرد کے نجی ڈیٹا تک رسائی فراہم کرتا ہے اور اسے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بل اپنی موجودہ حالت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بغیر وارنٹ یا عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتاری کے اختیارات بھی مہیا کردے گا۔

سینیٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سائنر کرائم بل کی کچھ شقیں دیگر قوانین سے متصادم بھی ہیں جیسے کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ اورہتک عزت ایکٹ جس کے سبب قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اورمقدمات التوا کا شکارہوں گے۔

شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ اس بل کا انتہایئی باریک بینی سے تنقیدی جائزہ لینے اور اس کی ان تمام شقوں میں اصلاح کی ضرورت ہے جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹرکے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں