ناصر عباس کو بازیاب کرکے پیش کیا جائے، عدالت کا حکم nasir abbasi
The news is by your side.

Advertisement

فیض آباد دھرنا، آرمی نے ملک کو بڑے سانحے سے بچا لیا، جسٹس قاضی امین

لاہور: ہائیکورٹ نے لا پتہ شیعہ رہنما ناصر عباس کو ایک ہفتے کے اندر بازیاب کروا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کردیا،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے دھرنے کے معاملے پر ملک کو بڑے سانحہ سے بچایا اگر یہ معاملہ نہ سلجھتا تو بڑی لاشیں گرتیں۔

تفصیلات کے مطابق ناصر عباس کی گمشدگی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ دائر درخواست کی سماعت جسٹس قاضی محمد امین نے کی، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے دھرنے کے معاملے پر ملک کو بڑے سانحہ سے بچایا اگر یہ معاملہ نہ سلجھتا تو بڑی لاشیں گرتیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ میجر اسحاق کی شہادت پاک فوج کی قربانیوں کا ثبوت ہے ان کے تابوت پر بیٹھی ننھی بیٹی کی تصویر دیکھ کر ساری رات سو نہیں سکا۔

دورانِ سماعت شیعہ رہنما کے بھائی علی عباس نے عدالت کو بتایا کہ ناصر عباس نے رانا ثنااللہ کی جانب سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے بارے میں متنازع بیان دینے پر ان کی نا اہلی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس کے بعد بھائی کو اغوا کر لیا گیا لہذا عدالت ان کی بازیابی کا حکم دے۔

پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ناصر عباس کی بازیابی کے لئے مشتبہ جگہوں پر چھاپے مارے گئے تاہم کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

عدالت نے پولیس رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مصالحے لگا کر بات کرنا بند کرے، سرکاری سطح پر عدلیہ کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں، وزیروں کو عدلیہ کی عزت کا کوئی خیال نہیں۔

مزید پڑھیں: رانا ثنا اللہ کی نااہلی درخواست دائر کرنے والے شہری کی مبینہ گمشدگی

عدالتی حکم پر ملٹری انٹیلی جنس کے افسر کرنل احمد عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے جج کو بتایا کہ ناصر عباس شیرازی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کی تحویل میں نہیں ہیں۔

عدالت نے تمام ملکی ایجنسیوں کو مربوط انداز میں وحدت المسلمین کے لاپتہ رہنما ناصر عباس شیرازی کو بازیاب کرا کے عدالت میں چار دسمبر تک پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہماری ایجنسیوں کے لئے لاپتہ شخص کو بازیاب کرانا کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ ہم ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے واقف ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں