The news is by your side.

Advertisement

بیرونی مداخلت اور بیرونی سازش میں کیا فرق ہےِ؟

اسلام آباد : رہنما پی ٹی آئی شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ بیرونی سازش پہلے سے تیار تھی ، اسی لیےمداخلت کی گئی، سازش نہیں ہوتی تو پھر مداخلت کیوں کی جاتی ہے، سپریم کورٹ سوموٹو لے اور جوڈیشل کمیشن بنائے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے ارشد شریف کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں حکومت کی تبدیلی اور سازش پربات ہوئی تھی، مراسلے میں کہا گیا عمران خان نے تنہا روس جانے کا فیصلہ کیا، امریکیوں کوڈس انفارمیشن کس نےدی کہ وزیراعظم نے تنہا فیصلہ کیا، قومی سلامتی کمیٹی کی منٹس کیساتھ بات چیت بھی ریکارڈڈ ہے۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ امریکیوں کوآفیشل غلط معلومات دی جاتیں تووہ اس پربات کرتے، مداخلت اس لیےکی گئی کہ سازش پہلے سے تیارتھی، مراسلےمیں نام کے ساتھ عمران خان کونشانہ بنایا گیا۔

دھمکی آمیز خط کے حوالے سے شیریں مزاری نے بتایا کہ ڈونلڈلونےکہاعدم اعتماد ناکام ہوئی توعمران خان کوآئیسولیٹ کریں گے ، عمران خان کوآئیسولیٹ کرنےکے بعد امریکا مد مقابل آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ لو نے کہا عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا اور عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو پاکستان کو معاف کردیا جائے گا ، اس کے بعد ہمارے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی اوروہ غائب ہوئے، سازش پہلے سے تیار تھی اورمداخلت کھل کرکی گئی۔

شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت تبدیلی کیلئے سب سے پہلے میڈیاکواستعمال کیاجاتاہے، حکومت تبدیلی بڑا پروجیکٹ ہوتا ہے ، جسمیں سب کو استعمال کیا جاتا ہے، 1953میں ایران میں حکومت تبدیلی کی واضح مثال موجودہے، 1953 میں پہلے میڈیا کو استعمال کیا گیا اور پھر مصدق حکومت کا تختہ الٹا گیا۔

بائیڈن کے حوالے سے پی ٹی آئی کی رہنما کا کہنا تھا کہ تیسرے ملک میں بائیڈن کہتا ہے روس میں حکومت تبدیل کرنی چاہیے، تیسرے ملک میں کھڑے ہو کر بائیڈن نے ترکی کو بھی دھمکی دی، سری لنکا کو بھی دھمکی دی اوردیکھیں وہاں کیا صورتحال ہے۔

پاکستان میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی دیکھ لیں حکومت تبدیل کردی گئی ہے، ایک ملزم کو وزیراعظم بنا دیا گیا، کیس ابھی چل رہاہے، منی لانڈرنگ کا کیس ہے اور ملزم کو وزیراعظم بنا دیا گیا، افسران تبدیل ہو رہے ہیں، کیس بند کیے جارہے ہیں۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ کابینہ منٹس تبدیل نہیں کرسکتے لیکن ان لوگوں سے بعید نہیں، یہ لوگ سپریم کورٹ میں جعلی دستاویزات پیش کرتے رہے، کیلبری فونٹ کا واقعہ سب کے سامنے ہے، ان لوگوں سے بعید نہیں کیونکہ قانون یہ مانتے ہی نہیں۔

سپریم کورٹ کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر نے کہا سپریم کورٹ کے ججز مراسلے کو کیوں نہیں دیکھ رہے، سوموٹو کیوں نہیں لے رہے ،عدم اعتماد پر سوموٹو لیا جاسکتا ہے تو مراسلے پر کیوں نہیں ، سپریم کورٹ کو مراسلہ بھیجا گیا وہ تحقیقات کا حکم دے۔

امریکا اور بھارت کی جانب سے ڈو مور کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جیسے ہی گئے امریکا اور بھارت نے پاکستان کو دھمکی دی، امریکا اور بھارت نے مل کرپاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کردیا، ماضی میں امریکا نے جیسے حکومتیں بدلیں ویسے ہی حکومت بدلی گئی۔

شیریں مزاری نے بتایا کہ ماضی میں میڈیاکواستعمال اورسیاستدانوں کوخریدا جاتا تھا، پاکستان میں بھی اسی قسم کی پالیسی استعمال کی گئی، سازش بنتی ہےاسی لیےمداخلت ہوتی ہے، سازش نہیں ہوتی تو پھر مداخلت کیوں کی جاتی ہے ، براہ راست کہا گیا کہ عمران خان کوعدم اعتماد سے ہٹایاجائے، دھمکی دی گئی عمران خان کونہیں ہٹایاتوسبق سکھائیں گے۔

امریکی سفارتکاروں سے رہنماوں کی ملاقاتوں سے متعلق سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی سفارتکاروں کی میٹنگزکاریکارڈنکال لیں، غیر معمولی صورتحال تونہیں ہوتی جواچانک میٹنگزہوں، سفارتکارفارن آفس کےتوسط کے بغیرایسی ملاقاتیں نہیں کرسکتا۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہماراایک ہی مطالبہ ہے نئے الیکشن کرائےجائیں، امریکا ان جیسے لوگوں کو کیوں اقتدارمیں چاہتا ہے کیونکہ وہ ان جیسے لوگوں کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بلیک واٹرکو ویزے،ڈرون حملے جنگی اقدامات تھے، عمران خان وزیراعظم بنے تو ٹرمپ نےپاکستان کودھمکی دی تھی، عمران خان نے جواب دیا افغانستان میں 20سال سے بیٹھےہیں، اب امریکا اور بھارت نے ڈومور کی بات کی کیوں جواب نہیں دیاگیا۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ شہبازشریف اس سازش میں ملوث ہے وہ کیا کمیشن بنائیں گے اور روز دیا کہ سپریم کورٹ کو صورتحال پر کمیشن بناناچاہیے، امریکاکی جانب سے پاکستانی قوم کیخلاف سازش ہوئی ، سپریم کورٹ کا فرض ہے کمیشن بنا کر تحقیقات کا حکم دے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں