صلح پسندی پُر امن احتجاج کا نظریہ متاثر کر سکتی ہے، شیریں مزاری -
The news is by your side.

Advertisement

صلح پسندی پُر امن احتجاج کا نظریہ متاثر کر سکتی ہے، شیریں مزاری

سلام آباد: وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ خون خرابے سے بچنے کے لیے صلح پسندی پُر امن احتجاج کے نظریے کو متاثر کر سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ صلح پسندی سے پُر امن احتجاج کا نظریہ متاثر ہو سکتا ہے۔

صلح پسندی کی پالیسی سے غیر ریاستی عناصر کے لیے خطرناک پیغام پہنچا

شیریں مزاری

انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کہتی ہیں کہ خون خرابے سے بچنے اور صلح پسندی کی پالیسی سے غیر ریاستی عناصر کے لیے خطرناک پیغام پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو قانون کی عمل داری قائم کرنی چاہیے، یقین ہے وزیرِ اعظم قانون کی حکمرانی کا عزم پورا کریں گے اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

وفاقی وزیر شیریں مزاری نے یورپ کی تاریخ سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نازیوں کے ساتھ صلح کی بات سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا، جنگ سے خوف زدہ یورپ نے خون خرابے سے بچنے کے لیے صلح پسندی اختیار کی لیکن اس کا نتیجہ دوسری جنگِ عظیم کی تباہی کی صورت میں نکلا۔


یہ بھی پڑھیں:  ریاستی طاقت استعمال کرتے تو نقصان کا اندیشہ تھا، فواد چوہدری


خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیرِ بلدیات سندھ سعید غنی نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کو گالیاں دینے والوں کے سامنے حکومت نے ہتھیار ڈال دیے۔

دوسری طرف وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ دھرنے میں حالات سب کے سامنے تھے، حکومت کے پاس 2 آپشن تھے، ریاستی طاقت استعمال کرتے تو نقصان کا اندیشہ تھا۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ہم نے جو قدام کیا وہ آگ بجھانے کے مترادف ہے، طاقت استعمال کرنے سے نقصان ہوتا تو بھی تنقید ہوتی، لیکن کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ریاست اُسے معاف کر دے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں