The news is by your side.

Advertisement

امیر اور غریب ممالک کے درمیان کرونا ویکسینز کی تقسیم میں تکلیف دہ عدم توازن

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے امیر اور غریب ممالک کے درمیان کرونا وائرس ویکسینز کی تقسیم میں ’تکلیف دہ عدم توازن‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیدروس ایڈھانوم گیبریئسَس نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر کرونا ویکسینز کی ترسیل میں ’تکلیف دہ‘ عدم توازن برقرار ہے۔

ایڈھانوم گیبریئسَس نے جنیوا میں تنظیم کے مرکزی دفتر سے جمعے کو آن لائن پریس کانفرس میں بتایا کہ 194 ممالک میں ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو چکا ہے، تاہم 26 ممالک میں تا حال ویکسی نیشن کا عمل شروع نہیں ہو سکا، ان میں سے 7 تک ویکسین کی ترسیل ممکن بنا دی گئی ہے اور مزید 5 ممالک میں چند روز کےا ندر کرونا ٹیکے لگانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے بتایا کہ کرونا انفیکشن کے خلاف دنیا بھر میں 70 کروڑ سے زائد خوراکیں دی جا چکی ہیں، تاہم ان میں سے 87 فی صد خوراکیں امیر ممالک کو گئی ہیں، جب کہ کم آمدنی والے غریب ممالک کو صرف 0.2 فی صد حصہ گیا۔

انھوں نے کہا ویکسین کی عالمی سطح پر تقسیم میں تکلیف دہ عدم توازن کا یہ عالم ہے کہ سب سے زیادہ آمدن والے ممالک میں تقریباً ہر 4 افراد میں سے 1 فرد کو کو وِڈ نائنٹین کی ویکسین دی جا چکی ہے، جب کہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ تناسب 500 میں سے 1 فرد ہے۔

گاوی ویکسین الائنس اور ڈبلیو ایچ او نے جمعرات کو کہا تھا کہ کوویکس (COVAX) ادارے کے تحت اب تک 6 براعظموں میں 102 ممالک کو 3 کروڑ 84 لاکھ کرونا ویکسین ڈوزز کی ترسیل کی جا چکی ہے، یہ ترسیل چھ ہفتے قبل شروع کی گئی تھی، جب کہ کوویکس کا عزم ہے کہ رواں سال 2 ارب خوراکیں پہنچائی جائیں گی، تاہم اس سلسلے میں تاخیر کا سامنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں