The news is by your side.

Advertisement

کورونا کے تشویشناک مریضوں میں خوفناک حد تک اضافہ، مختص بیڈز کم پڑنے لگے

لاہور: کورونا کے تشویشناک مریضوں میں خوفناک حد تک اضافہ کے بعد سرکاری اسپتالوں کے وینٹی لیٹرز 88.50 فیصد تک بھر گئے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے دارلحکومت لاہور کے سرکاری اسپتالوں میں کرونا کے مختص بیڈز کم پڑنے لگے ، سرکاری اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے 164 وینٹی لیٹرز مختص کئے گئے ہیں۔

شہر کے سرکاری اسپتالوں کے وینٹی لیٹرز 88.50 فیصد تک بھر گئے ، جس کے باعث مریضوں کو وینٹی لیٹرز کے حصول کیلئے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

شہر میں کرونا مریضوں کیلئے 475 آکسیجن بیڈز مختص کیے گئے ہیں، جس میں سے 66.20 فیصد تک آکسیجن بیڈز بھر گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہر کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں 785 مریض زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 93 تشویشناک مریض وہینٹی لیٹرز پر، 201 مریض انتہائی نگہداشت وارڈ اور 491مریض آکسیجن پر زیر علاج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں 531 ، نجی ہسپتالوں میں 254 کرونا کے مریض زیرِ علاج ہیں، میو ہسپتال سب سے زیادہ 251 مریض زیر علاج ہیں، جس میں سے 59مریض آئی سی یو اور 42مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں جبکہ سروسز اسپتال میں 59 اور جناح اسپتال 74 مریض زیرِ علاج ہیں۔

وی سی یو ایچ ایس پروفیسر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ کرونا کی تیسری لہر کی پیک شروع ہو چکی ہے، وائرس نے اپنی ساخت اور ہیت تبدیل کر لی ہے، تشویشناک کیسز بڑھنے سے اموات بھی بڑھے گی۔

پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کو لوڈ تب ہی کم ہو گا جب لوگ احتیاط کریں گے ، ویکسینیشن کے عمل کو ہر شہری کیلئے ممکن بنایا جائے، سماجی و مذہبی تقریبات پر فوری پابندی لگائی جائے۔

انھوں نے مزید کہا شہریوں کو ہر صورت کرونا ایس او پیز پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں