گرونانک کے جنم دن پرپاکستان کرتاپور کا راستہ کھولنے کو تیار ہے، بھارت خیرسگالی کاجواب دے، سدھو
The news is by your side.

Advertisement

گرونانک کے جنم دن پرپاکستان کرتاپور کا راستہ کھولنے کو تیار ہے، بھارت خیرسگالی کاجواب دے، سدھو

ممبئی : بھارت کے سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھوکا کہنا ہے پاکستان کرتارپورصاحب کا راستہ کھولنے کو تیارہے، وزیراعظم پاکستان کا شکریہ اداکرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں، بھارت پاکستان کی خیرسگالی کاجواب دے۔

تفصیلات کے مطابق سابق بھارتی کرکٹر اور سیاسی رہنما نوجوت سنگھ نے  بھارتی میڈیا سے گفتگو  میں  پاکستان کی جانب سے کرتارپور راستہ کھولنے کے بیان پر  کہا کہ گرونانک کے 550 ویں جنم دن پر پاکستان کرتار پور راہداری کھولنے کو تیارہے، پنجاب والوں کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی کوئی بات نہیں ہوسکتی۔

سدھو کا کہنا تھا کہ اپنے دوست اور پاکستان کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرنے کے لئےالفاظ نہیں ہیں، یہ پہل اتنی جلدی ہوئی کہ اس کا اندازہ بھی نہیں تھا، بھارت پاکستان کی خیرسگالی کاجواب دے۔

سابق بھارتی کرکٹر نے خود پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ووٹوں کے لئے مذہب کوسیاست میں نہ لائیں۔

یاد رہے نوجوت سنگھ سدھو نے  واپسی کے بعد بھارتی میڈیا سے گفتگو میں اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا تھا دورہ پاکستان سے یقین پختہ ہوا کہ پاکستان اوربھارت کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، میں پاکستان محبت اور امن کا پیغام لے کر گیا تھا۔

مزید پڑھیں : جنرل قمرجاوید باوجوہ کی کرتار پور صاحب کا راستہ کھولنے کی بات جذباتی لمحہ تھا، سدھو

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملنے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا  تھاکہ جنرل قمرجاوید باوجوہ کی کرتار پور صاحب کا راستہ کھولنے کی بات جذباتی لمحہ تھا، کوئی آپ کے خوابوں کو حقیقت کردے تو کیا آپ جذباتی نہیں ہوں گے، جنرل باجوہ کو جھپی ڈالنا فطری عمل تھا۔

خیال رہے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے برطانوی خبررساں ادارے کو انٹرویو میں تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سکھ یاتریوں کے لئے جلد کرتار سنگھ بارڈر کھول دے گا، جس کے بعد یاتری ویزے کے بغیر گردوارہ دربار صاحب کے درشن کرسکیں گے۔

واضح رہے بھارت کے سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کی حلف برداری میں شرکت اور آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ مختصر ملاقات کی تھی، ملاقات میں آرمی چیف نے نوجوت سنگھ سدھو سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا، خیریت دریافت کی اور گلے بھی ملے۔

جس کے بعد بھارتی میڈیا اور انتہا پسند آگ بگولہ ہوگئے تھے، مشتعل افراد نے سدھو کے پوسٹر اور پتلے کو آگ لگائی گئی جبکہ انتہا پسند جماعتوں نے بھارت کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے، جس میں سدھو کے پتلے کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں