The news is by your side.

Advertisement

بطور کرائم رپورٹر اداکارہ سدرہ نیازی کے ساتھ پیش آنے والا سنسنی خیز واقعہ

’نامور کرائم رپورٹر بننا چاہتی تھی لیکن قسمت نے اداکارہ بنا دیا‘ یہ ہیں قیامت اور چپکے چپکے جیسے ٹی وی ڈراموں میں بہترین اداکاری کرنے والی سدرہ نیازی، جنھوں نے اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں اپنے بارے میں متعدد انکشافات کیے۔

سدرہ نیازی کا کہنا تھا کہ وہ کرائم رپورٹنگ کرتے کرتے اداکارہ بن گئی تھیں، ان کا یہ کہنا کسی انکشاف سے کم نہیں کہ وہ اداکاری سے قبل صحافت میں تھیں، اور وہ نامور کرائم رپورٹر بننا چاہتی تھیں، مگر پھر اداکاری میں آ گئیں۔

’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں ایاز سموں، نوال سعید اور وسیم بادامی کے ساتھ اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق کھل کر باتیں کرتے ہوئے سدرہ نیازی نے بتایا کہ انھوں نے صحافت میں تعلیم حاصل کر رکھی ہے، اور کیریئر کا آغاز بطور صحافی کیا تھا۔

سدرہ نیازی کا کہنا تھا کہ وہ لاہور میں ایک نیوز چینل میں کرائم رپورٹنگ کرتی تھیں، اور ان کی شروع سے ہی خواہش تھی کہ وہ صحافت میں ہی رہیں، تاہم ایک بار جب ایک اور نیوز چینل میں جانا چاہا تو انھیں نیوز کاسٹنگ کی پیش کش کی گئی، لیکن چوں کہ انھیں ہر وقت اسکرین پر آنے کا شوق نہیں تھا، تو انھوں نے انکار کر دیا۔

سدرہ نے بتایا کہ انھوں نے ایک ملاقات میں ہم ٹی وی کی مالک اور ڈراما ڈائریکٹر سلطانہ صدیقی سے اسکرپٹ پر کام کرنے سے متعلق تجویز مانگی تھی، اسی ملاقات میں انھوں نے اسکرین پر آنے کا مشورہ دیا۔

30 سالہ اداکارہ نے مزید بتایا کہ وہ صحافت اور رپورٹنگ کرتے کرتے پہلے تو ماڈلنگ کی دنیا میں داخل ہوئیں، اور پھر انھوں نے ایک جاننے والے ڈائریکٹر کی ٹیلی فلم ’لال‘ میں کام کیا، جس کے بعد وہ فُل ٹائم اداکارہ ہی بن گئیں۔

اداکارہ نے ٹی وی پر اپنے کام سے متعلق بتایا کہ اگرچہ انھوں نے اب تک بہت کم کام کیا ہے، مگر انھیں اچھے کام کی وجہ سے کافی شہرت ملی ہے، اور لوگ انھیں ان کی آواز ہی سے پہچان لیتے ہیں، سدرہ نیازی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ حادثاتی طور پر اداکارہ بن گئیں، مگر اب انھیں فیلڈ میں مزہ آ رہا ہے۔

تاہم اداکاری میں آنے سے قبل، اپنی صحافتی زندگی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے سدرہ نیازی نے کہا کہ وہ جیل میں قید ایک قاتل سے ملی تھیں، اس ملاقات نے انھیں ڈرا دیا تھا۔ سدرہ کے مطابق کرائم رپورٹنگ کے دوران انھیں ایک بار کوٹ لکھپت جیل میں غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ملزم کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا، لیکن وہ ان کا انٹرویو کر کے ڈر گئیں۔

سدرہ نے بتایا کہ مذکورہ ملزم نے غیرت کے نام پر اپنی 2 بہنوں کو قتل کیا تھا، اور وہ کئی سال سے جیل میں تھا، اور اسے اپنے کیے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں