نظام شمسی کے دوسرے سب سے بڑے سیارے زحل پر گول دائروں سے متعلق سائنسدانوں کو بڑی کامیابی مل گئی۔
سائنسدان پہلے ہی دریافت کرچکے تھے کہ سیارے زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن کی ریت برقی طور پر چارج ہے، اس کی جھیلیں میتھین کے ساتھ بہتی ہیں اور فضا ابر آلود ہے۔
لیکن اب ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس چاند پر موسموں کی نشاندہی کی ہے۔
تمام تر حقائق جاننے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے اعلان کیا کہ ٹیلی اسکوپ نے ٹائٹن کے شمالی ہیمسفیئر میں روشن نشانات کی نشان دہی کی جو دراصل بڑے بادل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ چیزیں کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں کی تصدیق کرتی ہے کہ بادل موسمِ گرما کے آخر میں ابھرتے ہیں جب سطح گرم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کمپیوٹر ماؤس کو ”ماؤس” کیوں کہا جاتا ہے؟ معمہ حل ہوگیا
ناساکے سائنسدانوں نے اسی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دریافت کا مطلب یہ ہے کہ ٹائٹن نظامِ شمسی کا واحد چاند ہے جس میں موسموں کے اثرات ملے ہیں۔
اس سے قبل اپریل میں پیش کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ٹائٹن ارضیاتی طور پر حیران کن طور پر زمین سے مماثلت رکھتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


