The news is by your side.

Advertisement

سندھ ایپکس کمیٹی اجلاس: مدارس اور سرکاری تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

کراچی: سندھ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں مدارس اور سرکاری تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا جس میں مدارس کی فنڈنگ اور نصاب کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا 23 واں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں کور کمانڈر کراچی، چیف سیکریٹری، صوبائی وزیر ناصر شاہ، مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب، ایڈووکیٹ جنرل، ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس نے شرکت کی۔

اجلاس میں گزشتہ ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدر آمد کا جائزہ لیا گیا، سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور نیشنل ایکشن اور پراسیکیوشن پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ امن کی صورتحال ہے لیکن 3 واقعات چینی قونصلیٹ حملہ، لانڈھی اور گلستان جوہر میں دھماکہ افسوسناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کو سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینی ہے۔

سیکریٹری داخلہ کبیر قاضی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مدارس کی رجسٹریشن، اداروں کی مانیٹرنگ اور ورکنگ گروپ کا قیام ہوچکا، یہ گروپ سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں قائم ہوا ہے۔ کمیٹی میں سیکریٹری مذہبی امور، پولیس اور دیگر اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ کمیٹی کا پہلا اجلاس 5 دسمبر 2018 کو ہو چکا ہے جس میں مدارس رجسٹریشن اور سرکاری تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ 3 چیزوں پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مانیٹرنگ میں سورس آف فنڈنگ، نصاب کا جائزہ اور بیرون ممالک زیر تعلیم طلبا کی اسناد شامل ہیں۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ دہشت گردی میں بڑے تعلیمی اداروں کے طلبا بھی ملوث رہے ہیں۔ مدارس کی رجسٹریشن کا ڈرافٹ تیار ہے لا ڈیپارٹمنٹ جائزہ لے گا۔ جو مدارس اہم شاہراہوں پر ہیں ان کی منتقلی کے لیے بات کی جائے۔

اجلاس میں کور کمانڈر نے کہا کہ سائبر کرائم کا سسٹم ہمارا اپنا ہونا چاہیئے۔ اس حوالے سے آرمی چیف سے درخواست کی جائے گی۔ درخواست ہوگی کہ آرمی سائبر سیکیورٹی ونگ سے مدد فراہم کی جائے۔

اجلاس میں سیف سٹی پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ علاقائی پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے ادارے مل کر فیصلہ کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کے بھوت کو اب ختم کرنا ہے، اس پر تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کام کریں، بہتر انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کے لیے ادارے مل کر کام کریں۔

اجلاس میں نئے پراسیکیوٹرز کی ٹریننگ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ بانی ایم کیو ایم کے نام سے 62 عمارتیں اور دیگر ادارے تھے، عمارتوں اور اداروں پر سے بانی ایم کیو ایم کا نام تبدیل کر دیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ 1899 درگاہوں کی سیکیورٹی آڈٹ بھی کی گئی۔ سندھ پولیس اور رینجرز نے پورے صوبے کی سیکیورٹ آڈٹ کی۔ 15 اضلاع کی آڈٹ ہوچکی اور کمزور مقامات کی نشاندہی کی گئی، باقی اضلاع کا سیکیورٹی آڈٹ کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کے شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچے کے علاقوں میں 110 تھانے، 50 چیک پوسٹ اور 3112 اہلکار تعینات ہیں۔ اجلاس میں کچے کے علاقوں پر مزید توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے چیف سیکریٹری کے تحت کچے کے علاقوں کی ترقی پر کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی میں چیئرمین پی اینڈ ڈی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور آئی جی پی شامل ہوں گے۔ کمیٹی کچے کے علاقوں کے لیے پیکج دینے کی سفارش مرتب کرے گی۔

اجلاس میں بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ نان سی پیک اور سی پیک منصوبوں کی بھی آڈٹ ہوچکی ہے۔ نان سی پیک کے 93 منصوبوں پر 952 غیر ملکی کام کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے 2859 سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔

بریفنگ کے مطابق سی پیک کے 10 منصوبوں پر 2878 غیر ملکی کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان منصوبوں کی مینجمنٹ کو ہدایت کریں 2843 پرائیوٹ گارڈز رکھیں۔ ’فیصلہ ہوا تھا جتنی سیکیورٹی سرکاری ہوگی اتنی پرائیویٹ ہائر کی جائے گی‘۔

آئی جی پولیس نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ 12 ہزار 733 ملزمان اور 601 گینگ کے کارندوں کو گرفتار کیا۔ 97 ملزم مختلف مقابلوں میں مارے گئے۔ 2 راکٹ لانچرز، اسنائپر رائفل، 2 ایل ایم جی، 4 جی تھری رائفل، 181 ایس ایم جی اور 8457 پستول برآمد کیے۔

آئی جی نے بتایا کہ کراچی ریجن نے 205 بم یا دستی بم برآمد کیے۔ نومبر 2018 تک 47 قتل ہوئے،2017 میں تعداد 55 تھی۔

انہوں نے بتایا کہ چینی قونصل خانے پر حملےمیں ملوث تینوں حملہ آور مارے گئے۔ 23 دہشت گردوں کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت پھانسی کی سزا دی گئی۔ اینٹی ٹیرر ازم فنانسنگ یونٹ میں 2281 افراد پر کام کیا گیا۔ یونٹ میں 1457 فورس اہلکار کام کر رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں