سندھ اسمبلی میں اردو کے بہ طور سرکاری زبان کے نفاذ سے متعلق قرارداد مسترد urdu
The news is by your side.

Advertisement

سندھ اسمبلی میں اردو کے نفاذ سے متعلق قرارداد مسترد

کراچی : سندھ اسمبلی میں اردو کو سرکاری و نجی اداروں میں بہ طور سرکاری زبان نافذ کرنے کی قرارداد حکومتی بینچوں کے اعتراض کے باعث مسترد کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق آج سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کی جانب سے اردو کو سرکاری و نجی اداروں میں نفاذ کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی جسے سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے چند اعتراضات کے ساتھ واپس لینے کی استدعا کی بعد ازاں ووٹنگ کروانے پر کثرت رائے سے قرار داد مسترد کر دی گئی۔

سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اردو قومی زبان ہے اور ہر جگہ بولی اور پڑھی جاتی ہے جب کہ سرکاری و نجی اداروں میں بھی اردو پہلے ہی بولی، پڑھی اور لکھی جاتی ہے اس لیے اس قرار داد کی کوئی تُک نہیں بنتی ہے۔

سینیئر صوبائی وزیر نے سوال اُٹھایا کہ کیا فاضل رکن یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر سندھ اسمبلی میں سندھی بولی پڑھی اور لکھی جاتی ہے تو کیا اسے ختم کردیا جائے چنانچہ سینیئر صوبائی وزیر نے اپنے اعتراضات کی روشنی میں رکن صوبائی اسمبلی سے قرارداد واپس لینے کی استدعا کی۔

تاہم رکن صوبائی کامران اختر نے قرار داد واپس لینے کے بجائے اسے قومی ضرورت قرار دیتے ہوئے عدالت عالیہ کی جانب سے اردو کے نفاذ سے متعلق حکم کا حوالہ دیتے ہوئے قرار داد پر بحث کا مطالبہ کیا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی جانب سے قرارداد پر ووٹنگ کروائی گئی جس پر حکومتی اراکین نے قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیے جس کی وجہ سے قرارداد کثرت رائے سے مسترد کر دی گئی اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے سخت نعرے بازی کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں