The news is by your side.

Advertisement

سندھ اسمبلی کا اجلاس : ہندو لڑکیوں کے اغوا سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور

ہندو برادری کو پاکستان میں مذہبی آزادی حاصل ہے، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے، خرم شیر زمان

کراچی : سندھ اسمبلی میں منگل کو پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پر جی ڈی اے کے اقلیتی رکن نند کمار گوکلانی کی ایک نجی قرارداد جو ہندو لڑکیوں کے اغوا سے متعلق تھی ایوان نے بعض ترامیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کرلی۔

اپوزیشن کے رکن نند کمار گوکلانی نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے گھوٹکی میں ہندووں کے معاملے پر آواز اٹھانے کا اعلان کیا تھا جس پر ہم پیپلز پارٹی کے مشکور ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم اصل سندھ دھرتی اور ہڑپہ کی تاریخ کے وارث ہیں مگر اپنی بچیوں کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔

نند کمار نے کہا کہ میں ایوان میں اس معاملے پر بل لایا تو اسے چار ماہ سے محکمہ اقلیت نے غائب کردیا ہے انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے ہمارے حقوق پر ہم سے وعدہ کیا تھا کہ برابری کے حقوق ملیں گے مگر قائد کا پاکستان کہاں ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن خرم شیر زمان نے کہا کہ ہندو برادری کو پاکستان میں مذہبی آزادی حاصل ہے ،ہندو ہم سے زیادہ محب وطن ہیں،بھارت میں مسلمانوں کےساتھ زیادتی کی جاتی ہے ،پاکستان میں سب کو آزادی حاصل ہے اغوا کی وارداتیں سماجی مسئلہ حل ہے۔

وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ نے کہا کہ ہمارے ہاں کوئی اقلیت نہیں مسلم اورغیر مسلم ہم سب پاکستانی ہیں، حکومت سندھ غیر مسلم لڑکیوں کے اغوا کے واقعات کو روکنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔

ایم کیو ایم کی خاتون رکن منگلا شرما نے کہا کہ میری پارٹی کے اراکین ہمارے ایشوز پر ساتھ نہیں دیتے بولنے کی بھی اجازت لینی پڑتی ہے، منگلا شرمانے کہا کہ ہم نہ ملک چھوڑیں گے نہ نقل مکانی ہوگی ہم اس دھرتی کے ہیں اس دھرتی پر رہیں گے۔

جی ڈی اے کی نصرت سحر عباسی نے کہا کہ مذہبی تفریق سے بالاتر ہوکر بچیوں کےساتھ زیادتی کےخلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

بعدازاں ایوان نے سندھ کے مختلف شہروں سے اغوا کی وارداتوں کےخلاف مذمتی قرارداد ترامیم کے ساتھ منظور کرلی جس کے بعد اجلاس جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں