سندھ کابینہ کا 2 ماہ سے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافے پر اظہار تشویش -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ کابینہ کا 2 ماہ سے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافے پر اظہار تشویش

پتا ہے کوتاہیاں کہاں ہو رہی ہیں: مراد علی شاہ۔ کالی بھیڑیں ختم کرنے کے لیے وہ کام کروں گا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا: پولیس چیف

کراچی: وزیرِ اعلیٰ سندھ کی زیرِ صدارت نئی کابینہ کے پہلے اجلاس میں کراچی میں دو ماہ سے اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا، اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے کابینہ نے سخت قوانین بنانے کا فیصلہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق آج کراچی میں سندھ کی نئی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اسٹریٹ کرمنلز کو قانون کی پکڑ میں لانے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ کی صدارت میں سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اسٹریٹ کریمنلز کے خلاف پولیس اور رینجرز کو بھرپور کریک ڈاؤن کی ہدایت کی جائے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ’شہریوں کے جان ومال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، مجھے سب پتا ہے کوتاہیاں کہاں ہو رہی ہیں۔‘

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ امن و امان کی صورتِ حال ہر صورت برقرار رکھی جائے، ہم نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کر کے امن و امان بہتر بنایا ہے۔

اجلاس میں کراچی پولیس چیف ڈاکٹر عامر احمد شیخ نے کہا کہ وہ اسٹریٹ کرمنلز سے نمٹنے کے لیے خود میدان میں اترے ہیں اور شہر میں سادہ لباس میں دورے کر رہے ہیں۔


سندھ کابینہ کے ارکان کو محکموں کے قلم دان سونپ دیے گئے، نوٹیفکیشن جاری


کراچی پولیس چیف نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ’شہرِ قائد کے شہریوں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا، بڑی تعداد میں اسٹریٹ کرمنلز کو گرفتار کیا گیا ہے، ملزمان کو سخت سزا ملے گی تو وارداتیں کم ہوں گی۔‘

پولیس چیف نے محکمے میں کالی بھیڑوں کے حوالے سے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پولیس میں کالی بھیڑیں موجود ہیں، انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’کالی بھیڑیں ختم کرنے کے لیے وہ کام کروں گا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔‘

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں