site
stats
پاکستان

بائیومیٹرک تصدیق: محکمہ تعلیم کی غفلت، خواتین اساتذہ پریشان

کراچی: سندھ حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے تدریسی اورغیرتدریسی عملے کی بائیومیٹرک تصدیق کا سلسلہ جاری ہے جس میں بڑے پیمانے پربدنظمی کی شکایت موصول ہورہی ہیں۔

اے آر وائی نیوزڈاٹ ٹی وی کو موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے سندھ حکومت کے محکمہ تعلیم نے کراچی
جیسے بڑے شہرکے تمام ترعملے کی بائیو میٹرک تصدیق کا سلسلہ کراچی میں ایک ہی مقام یعنی سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کیمپ آفس پرشروع کررکھا ہے۔

اطلاعات کی تصدیق کے لئے جب ڈی جے کالج کراچی سے متصل سندھ ٹیکسٹ بورڈ کیمپ آفس کادورہ کیا گیا تووہاں انتہائی تکلیف دہ صورتحال سامنے آئی۔

محکمہ تعلیم نے ملازمین کی تصدیق کو ڈسٹرکٹ کی سطح پر تقسیم کیا ہے اور ایک ہی ڈسٹرکٹ کے تمام ترتدریسی اورغیرتدریسی عملے کو کیمپ آفس پہنچ کربائیومیٹرک تصدیق کروانے کے احکامات دیئے جاتے ہیں۔

محکمہ تعلیم کا تدریسی عملہ زیادہ ترخواتین اساتذہ پرمشتمل ہے اور یہ خواتین رش کے باعث شدید دھوپ میں طویل
انتظار کی زحمت سے بچنے کے صبح 7 بجے سے کیمپ آفس کے سامنے جمع ہوکر بائیو میٹرک تصدیق کے لئے
ٹوکن لینا شروع کردیتی ہیں جبکہ بائیومیٹرک تصدیق کا عملہ صبح نو بجے اپنی کاروائی کا آغاز کرتا ہے۔

کسی بھی قوم میں اساتذہ انتہائی معزز تصور کئے جاتے ہیں اورعموماً معاشرے کے دیگر طبقے اساتذہ کے ساتھ
تعظیم کے ساتھ پیش آتے ہیں لیکن یہاں تو گنگا الٹی ہی بہتی نظر آئی کہ جہاں چپراسی کی سطح کا ایک قوم کی
آئندہ نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والی معزز خواتین کے ساتھ انتہائی تحقیرآمیز لہجے میں گفتگو
کرتے ہوئے ان سے شدید دھوپ میں قطارلگانے کا مطالبہ کرتا نظرآیا۔

مذکورہ باریش شخص نے انتہائی درشت لہجے میں خواتین کو دئیے گئے نمبروں کے حساب سے قطاربنوائی جبکہ
انتہائی مختصرتعداد میں موجود مرد حضرات ازخود قطاربنا کرانتظارکی گھڑیاں تکنے لگے۔

دو گھنٹے کے صبرآزما انتظار کے بعد جب اندر جانے کا مرحلہ پیش آیا توخواتین کو معلوم ہوا کہ صبح 7 بجے
جو انہیں ٹوکن نمبردئیے گئے تھے وہ درحقیقت بہلاوہ تھا اوراندرصورتحال مزید اندوہناک تھی۔

دوگھنٹے کے صبرآزما انتظار کے بعد جب خواتین اندرپہنچھی تومعلوم ہوا کہ پورے ڈسٹرکٹ کے بجائے صرف
ایک مخصوص ٹاوٗن سے تعلق رکھنے والے عملے کی بائیومیٹرک تصدیق کی جارہی ہے۔

اس موقع پر خواتین اساتذہ نے انتہائی غم وغصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایجوکیشن آفس کی جانب سے
جاری کردہ ہدایت کے مطابق اپنے طالب علموں کو چھٹی دے کرکراچی کے نواحی علاقے سے یہاں آئیں ہیں اور
اب ان سے کہا جارہا ہے کہ بعد میں آئیں۔

ایک خاتون پرنسپل نے اپنا اوراپنے متعلقہ اسکول کانام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا کہ وہ اوران کاعملہ گزشتہ تین
دن سے یہاں آرہی ہیں لیکن بائیو میٹرک تصدیق کا مرحلہ تاحال سر نہیں ہوسکا ہے، انکا کہنا تھا کہ یہ سب محکمہ
تعلیم کی انتظامی غفلت کا نتیجہ جس کے باعث وہ شدید گرمی میں یہاں پریشان ہونے پرمجبورہیں‘‘۔

انہوں نے شکایت کی کہ اساتذہ کے ساتھ معاشرے کے کسی گئے گزرے طبقے سے بھی زیادہ برا سلوک کیا جاتا ہے
الیکشن کے دنوں میں انہیں طویل ڈیوٹیاں انجام دینے کےلئے مجبورکیا جاتا ہے اوراگر کوئی کسی معقول وجہ کے
سبب اپنی ڈیوٹی پرنہ پہنچ پائے تو اسے عدالت میں پیش ہونا پڑجاتا ہے‘‘۔

ڈسٹرکٹ سنٹرل میں نیوکراچی میں واقع ایک گورنمنٹ بوائزاسکول میں تعینات استاد نے شکایت کی کہ محمکمہ تعلیم
میں انتظامی بدنظمی عروج پرہےاورانہیں اس قسم کے مسائل کا آئے روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ محمکہ تعلیم کے ماتحت کراچی میں تدریسی اورغیرتدریسی عملے کی تعداد پچاس ہزارسے زیادہ ہے۔

اس معاملے پر اے آر وائی نیوز ڈاٹ ٹی وی نے وزیرتعلیم نثار کھوڑو اور سیکرٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن دونوں متعلقہ افراد سے اس معاملے پر رابطہ ممکن نہیں ہوا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top