The news is by your side.

Advertisement

قائم مقام گورنر کی تقرری: سندھ حکومت نے صدر مملکت کا نوٹیفکیشن مسترد کر دیا

کراچی: سندھ حکومت نے صدر مملکت کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے آغا سراج درانی سے خط و خطابت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے قائم مقام گورنر کی تقرری کے سلسلے میں صوبائی حکومت نے صدر عارف علوی کے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا ہے۔

سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آغا سراج درانی سے سندھ کے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے خط و خطابت کی جائے گی۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے اس سلسلے میں کہا کہ حکومت آغا سراج کو قائم مقائم گورنر تسلیم کرتی ہے، گورنر سندھ جب تک نہیں آتے ہمارے قائم مقام گورنر آغا سراج ہیں۔

دوسری طرف ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی ریحانہ لغاری نے قائم مقام گورنر کا حلف لینے سے انکار کر دیا ہے، انھوں نے صدر مملکت کے نوٹی فکیشن پر عمل سے معذرت کر لی، ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر کی موجودگی میں قائم مقام گورنر کا حلف نہیں اٹھا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعلیٰ سندھ کی نااہلی سے متعلق نظرثانی درخواست سماعت کیلئے منظور

ذرایع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کے انکار کے بعد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو قائم مقام گورنر بنائے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اس وقت بیرون ملک نجی دورے پر ہیں، وہ آج فریضہ حج کی ادائی کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں، وہ فریضہ حج کی ادائی کے 2 ہفتے بعد وطن واپس آئیں گے۔

ادھر ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری نے اے آر وائی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آئین سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کر سکتی، اس لیے حلف لینے سے انکار کیا، بال اب صدر مملکت کی کورٹ میں ہے، وہ چاہیں تو نوٹیفکیشن معطل کر دیں یا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیں۔

دریں اثنا، مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج درانی ملک میں ہی موجود ہیں، ان کی موجودی میں صدر کو اختیار نہیں کہ قائم مقام گورنر کی ذمہ داری کسی اور کو دیں، آرٹیکل 104 بتاتا ہے گورنر نہ ہو تو اسپیکر قائم مقام گورنر ہوتا ہے، وفاق کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 104 کے منافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ لگتا ہے صدر کو آرٹیکل 104 سے متعلق سمجھایا نہیں گیا، جرم ثابت نہ ہونے تک آغا سراج درانی اسپیکر ہی رہیں گے، گورنر نہ ہوں تو آغا سراج درانی قائم مقام گورنر بن جائیں گے، صدر کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 104 کے مطابق ہونا چاہیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں