The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت کا آئی جی کے معاملے پر گورنر سے دوبارہ مشاورت سے دو ٹوک انکار

کراچی: سندھ حکومت نے آئی جی کے معاملے پر گورنر سے دوبارہ مشاورت سے دو ٹوک انکار کر دیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل سے دوبارہ مشاورت نہیں ہوگی، ہم آئی جی کی تعیناتی کے سلسلے میں قانونی تقاضے پورے کر چکے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 23 دسمبر کو وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم ملاقات میں آئی جی کی تبدیلی پر اتفاق ہوا تھا، وزیر اعظم حالیہ دورے میں نئے آئی جی کے نام پر متفق تھے، 2 بار 2 ناموں پر اتفاق کے بعد بھی وفاقی حکومت آئی جی تبدیل کرنا نہیں چاہتی، وفاقی کابینہ میں معاملے کو گھمبیر بنا دیا گیا ہے۔

سندھ کی اپوزیشن کا آئی جی سے متعلق دو ٹوک مؤقف اپنانے کا فیصلہ

وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا دیگر صوبوں میں آئی جیز کی تبدیلی فوری ہوئی، کسی دوسرے صوبے میں اپوزیشن سے پوچھ کر آئی جی نہیں لگایا گیا،لیکن سندھ کا معاملہ کابینہ میں لے جایا گیا، اب سندھ حکومت کوئی نیا نام بھیجنے کے موڈ میں نہیں،سندھ کے ساتھ سوتیلے پن کا سلوک ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز گورنر ہاؤس میں اتحادیوں کی آ ئی جی سے متعلق مشاورت ہوئی تھی، گورنر نے اتحادیوں کے مشورے پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رابطہ کیا، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو فون کیا تاہم انھوں نے جواب دیا کہ آپ کا احترام ہے لیکن آئی جی معاملے پر بات نہیں کر سکتے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے جواب کے بعد گورنر سندھ نے وزیر اعظم سے رابطہ کیا اور کہا کہ میں نے آپ کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ سندھ کو فون کیا، انھوں نے آئی جی معاملے پر مثبت جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ سندھ پولیس کے سربراہ کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے، وفاق نے حکومت سندھ کے دیے گئے نام مسترد کر دیے تھے، اور عمران احمر کے بعد ڈاکٹر امیر شیخ کا نام وفاق نے دے دیا ہے، جب کہ آئی جی کلیم امام نے عمران یعقوب کا نام تجویز کیا تھا۔ دوسری طرف سندھ حکومت کا مشتاق مہر، غلام قادر تھیبو اور کامران فضل کے ناموں پر اصرار ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں