The news is by your side.

Advertisement

مسلسل تنازعات ،سندھ حکومت کا آئی جی سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ

کابینہ نے آئی جی پولیس کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی

کراچی : سندھ حکومت نے آئی جی سندھ کلیم امام کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا جبکہ سندھ کابینہ نے آئی جی کلیم امام کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی منظوری بھی دے دی۔

تفصیلات کے مطابق مسلسل تنازعات کے باعث سندھ حکومت نے آئی جی سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا، ذرائع کا کہنا ہے حکومت سندھ اپنے تابع افسر کو آئی جی سندھ لانا چاہتی ہے اور انھیں چند وجوہات پر تبدیل کرنا چاہتی ہے، آئی جی سندھ پہلے روز سے ہی سندھ حکومت سے تعاون نہیں کر رہے اور وزیراعلی ہاؤس کی جانب سے جاری احکامات پر عمل نہیں کراتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے کئی اہم اجلاسوں میں بھی آئی جی سندھ غیر حاضر رہے، کابینہ اراکین کی جانب سے کئی مرتبہ آئی جی سندھ کی غیرحاضری پرنوٹس لیا گیا ، آئی جی امن وامان پرپبلک سیفٹی کمیشن اجلاس میں بھی شریک نہ ہوئے، ایک دو مرتبہ آئی جی سندھ کی درخواست پر اجلاس کی تاریخ بھی بڑھائی گئی تاہم آئی سندھ وفاق کے اجلاسوں میں بدستورشرکت کرتے رہے، حلیم عادل شیخ کے معاملے پر بھی وفاق جاکر بریفنگ دی ۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا ہنگامی اجلاس جاری ہے ، جس میں کابینہ نے آئی جی پولیس کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی اور آئی جی سندھ کے لیے نئے ناموں پر غور شروع کردیا ہے۔

موجودہ آئی جی کی خدمات وفاق کے سپرد ہونے کی صورت میں 3نام زیر غور ہیں ، جن میں مشتاق مہر،کامران فضل اورغلام قادرتھیبوکےنام شامل ہیں۔

خیال رہے کہ چند پولیس افسران کے تبادلوں کے معاملے پر سندھ حکومت اور آئی جی سندھ کئی بار آمنے سامنے آئے، دسمبر میں آئی جی سندھ کلیم امام نے چند افسران کو صوبہ بدر کرنے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان فیصلوں نے پولیس کے مورال اور آئی جی کی کمانڈ کو کم زور کیا ہے۔

آئی جی کلیم امام سندھ حکومت کے احکامات کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور افسران کے تبادلے کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے افسران کو عہدہ چھوڑنے سے روک دیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں