The news is by your side.

Advertisement

سندھ پولیس اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کا تنازع

کراچی: آئی جی سندھ کلیم امام نے افسران کو صوبہ بدر کرنے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں نے پولیس کے مورال اور آئی جی کی کمانڈ کو کمزور کیا۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ کلیم امام نے افسران کو صوبہ بدر کرنے پر چیف سیکریٹری کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ خادم حسین رند سندھ پولیس کے اہم معاملات دیکھ رہے تھے، رضوان احمد شکار پور میں ڈاکوؤں کے خلاف اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

آئی جی سندھ نے خط میں کہا کہ اچانک افسران کےغیرمتوقع تبادلے نےغیر یقینی صورت حال پیدا کی، ان فیصلوں نے پولیس کے مورال اور آئی جی کی کمانڈ کو کمزور کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں فورس کا سربراہ ہوں اور مجھے یہ فیصلے میڈیا سے پتہ چلے، بدقسمتی سے یہ جب ہوا تو افسران سنجیدگی، دیانت داری سے کام کر رہے تھے۔

آئی جی سندھ نے خط میں سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات سے بھی آگاہ کیا،عدالتی حکم کے مطابق آئی جی انفرادی طور پر تبادلے ،تقرری کا مجاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 پولیس ایکٹ کے تحت بھی آئی جی تقرری، تبادلوں کا اختیار رکھتا ہے، درخواست ہے پولیس کو اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کرنے دیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں