The news is by your side.

Advertisement

بندرگاہیں اور قدیم ساحلی شہر

صدیوں قبل جب کراچی کے نام سے کسی شہر کا وجود نہیں تھا اور آج کی طرح سندھ کے ساحلی علاقے یوں آباد نہ تھے، تب بھی یہاں تین ایسی بندرگاہیں موجود تھیں جو آج قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔

بندرگاہ اور بحری جہازوں کی آمد و رفت کسی بھی ملک کی تجارت اور وہاں کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان میں کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندر گاہیں موجود ہیں۔ ان میں‌ سے دو صوبۂ سندھ اور ایک بلوچستان میں ہے جن کا یہ مختصر تعارف ہم یہاں پیش کررہے ہیں۔

’’ستکاگن دڑو‘‘
ساحلِ سمندر سے تیس میل کے فاصلے پر ستکاگن دڑو واقع ہے۔ وادیٔ مہران کی عظیم تہذیب کے زمانۂ عروج میں جب یہ شہر آباد ہوا تھا تو اس وقت سمندر کے بالکل کنارے پر واقع تھا، اور جہاز رانی اور سمندری راستے سے تجارت اور سفر کے لیے نہایت موزوں تھا۔ اس وقت یہ نقل و حمل کے لیے سندھ کا ایک مشہور ترین راستہ تھا۔

ستکاگن دڑو کے اصل شہر کو ایک مضبوط قلعے نے گھیر رکھا تھا جس کی بنیادیں تیس فٹ موٹی تھیں۔ ماہرین کے مطابق داخلی دروازہ نہایت تنگ تھا اور اس کے دونوں اطراف حفاظتی چوکیاں بنی ہوئی تھیں۔ اس میں پختہ عمارتیں تھیں، جب کہ قلعے سے باہر بھی ایک بستی آباد تھی۔ اس شہر کی کھدائی کے دوران جو اشیا اور بالخصوص ظروف برآمد ہوئے وہ سندھ کی قدیم تہذیب اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔

’’بالا کوٹ‘‘
یہ چند صدی قبل کراچی سے 45 میل دور شمال مغرب میں سون میانی کے قریب واقع ایک شہر تھا جس کے آج صرف کھنڈرات ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اپنے زمانے میں یہ ساحلِ سمندر کے قریب تھا اور بعد میں سمندر پیچھے ہٹتا گیا۔ اس وقت یہ سندھ کی ایک مصروف بندرگاہوں تھا اور اس شہر کی بڑی اہمیت تھی جس کے کھنڈرات کی کھدائی کے دوران قدیم قلعہ اور کئی قسم کی باقیات سامنے آئی ہیں۔

’’سوتکا کوہ’’
یہ پسنی سے آٹھ میل شمال کی جانب سمندر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر تھا جس کے آثار کی دریافت کے بعد معلوم ہوا کہ اس کا نام ’’سوتکا کوہ‘‘ تھا۔ اسی زمانے میں سمندر کے کنارے ایک بندر گاہ بھی واقع تھی اور ہر شہر کی طرح‌ یہ بھی قلعہ بند شہر تھا۔ یہاں‌ کھدائی کے دوران جو نوادرات دریافت ہوئے، اسے ماہرین نے قدیم سندھی تہذیب سے جوڑا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے کھنڈرات اور بعض اشیا میں بلوچستان کی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں