The news is by your side.

Advertisement

سندھ یونی ورسٹی کی زمین الاٹمنٹ کیس، عدالت نے ملزمان کو سزائیں سنا دیں

حیدر آباد: سندھ یونی ورسٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف کیس میں احتساب عدالت نے نیب ریفرنس پر فیصلہ سنا دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق احتساب عدالت نے سندھ یونی ورسٹی کی زمین جعل سازی سے الاٹ کرنے پر فیصلہ سنا دیا، اس سلسلے میں نیب کی جانب سے ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

کیس میں جعل سازی ثابت ہونے پر 16 ملزمان کو سزا اور جرمانے کیے گئے ہیں، احتساب عدالت نے ملزم برکت جونیجو کو 7 سال قید اور 48 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا۔

عدالت نے سابق ڈی جی سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم جاری کیا، سرکاری اراضی جعل سازی ریفرنس میں مستفیدہونے والے دیگر 13 ملزمان کو بھی سزا و جرمانے کیے گئے ہیں۔

عدم شواہد پر ملزم شعیب شیخ کو احتساب عدالت نے الزام سے بری کر دیا، سندھ یونی ورسٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں 31 ملزمان نامزد تھے، جن میں سے 13 ملزمان پلی بارگین کے تحت پہلے ہی سرکاری اراضی سرینڈر کر چکے ہیں۔

نیب نے 2015 میں جعل سازی کے ذریعے سندھ یونی ورسٹی زمین الاٹمنٹ پر ریفرنس دائر کیا تھا، ریفرنس کے مطابق سندھ یونی ورسٹی کی 213 ملین کی اراضی کو غیر قانونی طور پر الاٹ کیاگیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں