The news is by your side.

Advertisement

نام وَر گلوکارہ زرینہ بلوچ کی برسی

آج وادیِ مہران کی ایک ہمہ جہت شخصیت، گلوکارہ، ادیب، دانش وَر اور سماجی و سیاسی کارکن زرینہ بلوچ کی برسی ہے جو جیجی کے نام سے مشہور تھیں۔

زرینہ بلوچ دسمبر 1934ء کو حیدر آباد کے نواحی علاقے الٰہ داد گوٹھ میں پیدا ہوئیں۔ وہ سریلی آواز کی مالک تھیں۔ والد نے بیٹی کی حوصلہ افزائی کی اور زرینہ نے لوک گیت گانے اور گائیکی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا، بعد میں‌ ان کی آواز ریڈیو پاکستان کے ذریعے ملک بھر میں سنی گئی۔

ہونہار زرینہ بلوچ نے نام وَر فن کار اُستاد جمن کی شاگردی اختیار کی اور اپنے فن کو مزید نکھارا۔ 1960ء میں ریڈیو پاکستان کے حیدر آباد اسٹیشن نے گلوکاری کا مقابلہ منعقد کیا تو 600 شرکا میں‌ سے زرینہ بلوچ پہلے انعام کی حق دار ٹھہریں۔ شہرت اور گلوکاری کے فن میں نام و مقام بنانے کا یہ سلسلہ جاری رہا اور وہ پاکستان ٹیلی وژن تک پہنچیں جہاں گیت گانے کے ساتھ ڈراموں میں اداکاری بھی کی۔ انھوں نے متعدد کہانیوں اور افسانوں سے سندھی ادب کو مالا مال کیا۔

زرینہ بلوچ نے سندھی اور بلوچی زبانوں کے لوک گیتوں کو اپنی آواز دے کر گویا ایک نئی زندگی بخشی۔ انھوں‌ نے شیخ ایاز، استاد بخاری، تنویر عباسی، گل خان نصیر کے علاوہ فیض احمد فیض اور احمد فراز کی اُردو شاعری کو بھی اپنی سریلی آواز دی اور مقبولیت حاصل کی۔

زرینہ بلوچ نے سندھ کے معروف سیاست داں اور عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو سے شادی کی۔ ون یونٹ کے خلاف سیاسی جدوجہد میں حصہ لینے کے بعد زرینہ بلوچ نے ضیا دور میں دو سال قید بھی کاٹی۔

پرائیڈ آف پرفارمنس کے علاوہ زرینہ بلوچ نے فن و ادب کی خدمت پر شاہ لطیف ایوارڈ، سچل اور قلندر لعل شہباز ایوارڈ حاصل کیے۔

طویل علالت کے بعد زرینہ بلوچ 25 اکتوبر 2005 کو کراچی میں انتقال کرگئیں۔ آج بھی ان کے گائے ہوئے گیت خوشی کی تقریبات اور تہواروں پر گائے اور سنے جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں