The news is by your side.

Advertisement

جب ایک معروف گلوکار کو ریڈیو اسٹیشن سے دھکے دے کر نکال دیا گیا!

یہاں ہم پاکستان کے اس مشہور گلوکار کی زندگی کا ایک ناقابلِ فراموش واقعہ پیش کررہے ہیں جسے ریڈیو اسٹیشن ملتان پر آڈیشن میں ناکام ہی نہیں قرار دیا گیا بلکہ وہاں سے دھکے دے کر نکال دیا گیا تھا۔

بعد میں ان کا لاہور جانا ہوا تو پھر حوصلہ کیا اور دوبارہ ریڈیو اسٹیشن پہنچ گئے۔ آڈیشن دیا، وہاں بھی ناکام رہے۔ مایوسی بہت ہوئی، مگر نچلے نہ بیٹھے۔ گلوکاری میں نام کمانے کے شوق میں فلم انڈسٹری کا رُخ کیا، جانتے تو پہلے بھی تھے کہ انڈسٹری میں مہدی حسن کی آواز کا شہرہ ہے، لیکن وہاں پہنچ کر یہ احساس کئی گنا بڑھ گیا اور ان کی موجودگی میں اپنی جگہ بنتی نظر نہ آئی تو ناکامیوں سے بوجھل غلام عباس نے سوچ لیا کہ وہ گلوکاری چھوڑ کر کسی دوسرے شعبے میں قسمت آزمائیں گے، لیکن ہُوا کیا؟ اس کی تفصیل مشہور گلوکار غلام عباس کی زبانی جانتے ہیں:

”ریڈیو پر آڈیشن میں ناکامی نے بددل کر دیا تھا۔ پھر فلم انڈسٹری پہنچا تو دیکھا کہ ہر کوئی مہدی حسن کی آواز کا دیوانہ ہے، وہ انڈسٹری پر چھائے ہوئے ہیں، لتا جی کہہ چکی ہیں کہ ’ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے‘۔ یہ سب دیکھنے کے بعد خیال گزرا کہ بھلا شہنشاہِ غزل کی موجودگی میں کوئی مجھے کون پوچھے گا؟ ان کے ہوتے ہوئے بہ طور گلوکار اپنا تعارف کروانا حماقت ہی تو ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ کوئی اور کام تلاش کروں گا، گائیکی کا شوق کسی طرح پورا کرتا رہوں گا۔ بس پھر اپنے میوزک ڈائریکشن کا شعبہ چنا اور اس طرف آگیا۔

یہاں میرا تعلق ممتاز موسیقار نثار بزمی سے بنا، ان کے اسسٹنٹ کی حیثیت سے میں نے کام شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں فلم کا تمام کام سیکھ لیا۔ میں نے امراؤ جان ادا، تہذیب اور ناز جیسی فلموں میں انہیں اسسٹ کیا۔ بزمی صاحب درویش صفت انسان تھے۔ وہ ایک نظر میں جان لیتے تھے کہ کس کے اندر کون سا جوہر موجود ہے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھتے اور بہت محبت اور شفقت سے کام بھی سکھاتے رہے، لیکن ہر بار یہی کہتے کہ ’تم گائیک ہو، یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ کام چھوڑو اور گانا شروع کرو، بہت نام کماؤ گے۔‘ میں نے ان کے سامنے بھی اپنا خوف رکھ دیا کہ مہدی حسن صاحب کی موجودگی میں مجھے کون پوچھے گا، یہ میں نہیں کر سکتا، لیکن وہ اپنی بات پر اصرار کرتے رہے۔ میرے کام کی نوعیت ایسی تھی کہ میرے گائیکی کے شوق کو بڑھاوا ملتا رہا۔ دراصل مجھے گلوکاروں کو گانے بھی یاد کروانے پڑتے تھے۔ میں نے کئی گلوکاروں کو جن میں خان صاحب اور مالا بیگم بھی شامل ہیں، گانے یاد کروائے۔ یہ گانے مجھے بھی ازبر ہو جاتے تھے۔ پھر کمپوزیشن اور دوسرے تمام معاملات بھی میرے سامنے ہوتے تھے، اور یہ سب میرے اندر گلوکاری کے آتشِ شوق کو بھڑکاتے رہتے۔

”خیر، ہوا یہ کہ ایک مرتبہ مجھے کسی کام سے گاؤں جانا پڑا۔ کوئی بائیس روز بعد میں واپس آیا اور بزمی صاحب سے رابطہ کیا۔ ایک دو ٹیلی فون کالز کیں، وہ نہیں ملے۔ پھر کسی سے معلوم ہوا کہ ایورنیو اسٹوڈیو میں ہیں، میں وہاں پہنچ گیا، دروازے سے اندر داخل ہوا ہی تھا کہ وہ مجھے مل گئے۔ ان کی نظر مجھ پر پڑی تو فوراً بولے:’کہاں ہو، آجاؤ، تمھارا گانا ریکارڈ کرنا ہے۔‘ میں نے ٹالنے کی کوشش کی تو بولے: ’نہیں! یہ میں نے تمھارے ہی لیے بنایا ہے، اسے اپنی آواز دو گے تو مقبول ہو جاؤ گے۔‘

ان کی بات درست ثابت ہوئی۔ میں تو فلم میں گائیکی کا خیال ہی ذہن سے کُھرچ چکا تھا، لیکن اس روز بزمی صاحب کے اصرار پر گانا ریکارڈ کروایا تو مجھے اپنی ڈائری پر ایک ماہ اور سترہ دن کی بکنگ لکھنا پڑی۔ اس گانے کے فوراً بعد 47 فلموں کے لیے مجھے بُک کیا گیا۔ تسلیم فاضلی کی اُس تخلیق کے بول تھے: ’وہ آ تو جائے مگر انتظار ہی کم ہے۔‘ یہ گانا فلم ’اجنبی‘ میں اپنے وقت کے مقبول اداکار محمد علی پر پکچرائز ہوا تھا۔ یہ 1971 کی بات ہے۔ میرے لیے یہ واقعہ بہت اہم ہے کہ جس شعبے سے میں اپنی ابتدائی ناکامیوں اور اپنے خوف کی وجہ سے بھاگ رہا تھا، آج وہی میری نام وری اور شناخت کا باعث ہے۔

غلام عباس نے ایک اور واقعہ سنایا جو گائیکی کے شعبے کی اس ممتاز شخصیت کے لیے اُس وقت تکلیف کا باعث بنا ہو گا۔ تاہم قدرت نے بہت جلد اس کا ازالہ بھی کر دیا۔ غلام عباس نے مختصراً بتایا: 1970 میں ملتان جانا ہوا، اور یہ سوچ کر کہ یہ میرا شہر ہے، یہاں میں اپنے فن کو آزماؤں گا، ریڈیو اسٹیشن پہنچ گیا۔ وہاں آڈیشن دیا، اور خوش امیدی کے ساتھ نتیجے کا انتظار کرنے لگا، لیکن مجھے نہ صرف رد کر دیا گیا، بلکہ بے عزت کر کے ریڈیو اسٹیشن سے نکالا گیا، ساتھ ہی تنبیہہ کی گئی کہ دوبارہ وہاں قدم نہ رکھوں۔ اس کے بعد میں نے ریڈیو لاہور میں بھی آڈیشن دیا اور وہاں بھی ناکام قرار پایا، لیکن آج مجھے وہ مرتبہ اور مقام حاصل ہے جو کسی بھی فن کار کی تمنا ہوتی ہے۔

(تحریر و مکالمہ: عارف عزیز)

Comments

یہ بھی پڑھیں