The news is by your side.

Advertisement

بھارت نے پاکستانی سپاہی مقبول حسین پر40 سال تک ظلم کے پہاڑ توڑے

اسلام آباد : دراندازی کرنے والے پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری پربھارت کو جنیوا کنونشن یاد آگیا لیکن بھارت پاکستانی قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوزسلوک کرتارہا ہے،اس کی ایک مثال غازی سپاہی مقبول حسین ہیں۔

سپاہی مقبول حسین سال پینسٹھ کی جنگ میں گرفتارہوئے، ان پر جیل میں بدترین تشدد کیا گیا، چالیس سال بعد دوہزار پانچ میں رہا ہوئے تو مقبول حسین کو اپنے فوجی نمبر کے علاوہ کچھ یاد نہ تھا۔

آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے گاؤں ناڑیاں تراڑ کھل کا یہ نوجوان1960میں پاک فوج میں شامل ہوا،1965 کی جنگ کے دوران کیپٹن شیر کی کمان میں سپاہی مقبول وائرلیس سیٹ پر فرائض کی ادائیگی میں مصروف تھے کہ دشمن کے حملے میں شدید زخمی ہوئے اور  انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

اپنے پائلٹ کی گرفتاری پر جنیوا کنونشن کی دہائیاں دینے والے بھارت کوسپاہی مقبول حسین کے معاملے پرکوئی معاہدہ یاد آیا نہ انسانی حقوق کی کوئی شق یاد رہی،40 سال تک ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے گئے، سپاہی مقبول حسین کی زبان تک کاٹ دی گئی۔

لاتعداد صعوبتیں برداشت کرنے والے اس جواں ہمت پاکستانی کو2005 میں ماہی گیروں کے ساتھ رہائی ملی تو اس نیم پاگل سپاہی مقبول کو آزاد کشمیر رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے فوجی نمبر335139 کے سوا کچھ یاد نہ تھا۔

مزید پڑھیں: جنگی ہیرو سپاہی مقبول حسین اٹک میں انتقال کر گئے

رہائی کے بعد سپاہی مقبول حسین اپنے اے کے رجمنٹل سینٹر منسر پہنچے، جہاں منسر بیس کمانڈنٹ بریگیڈیر ظفر واہلہ کو کاغذ پر اپنا فوجی نمبر335139 اور نام لکھ کر بتایا، جس کے بعد ریکارڈ تلاش کیا گیا اور اس ہیرو کو شناخت ملی لیکن کوئی قریب دور کا رشتے دار نہیں مل سکا۔

حکومت نے رہائش گاہ دی جہاں وہ کچھ عرصہ بیمار رہ کر گزشتہ برس انتیس اگست کو خالق حقیقی سے جاملے، انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ آزاد کشمیرکے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں