The news is by your side.

Advertisement

سر سیّد احمد خان اور تیراکی

گرمی اور برسات کے موسم میں اب بھی دلّی کے اکثر باشندے سہ پہر کو جمنا پر جا کر پانی کی سیر دیکھتے ہیں اور تیرنے والے تیرتے بھی ہیں مگر پچاس برس پہلے وہاں اشراف تیرنے والوں کے بہت دل چسپ جلسے ہوتے تھے۔

سر سید کہتے تھے کہ “میں نے اور بڑے بھائی نے اپنے والد سے تیرنا سیکھا تھا۔ ایک زمانہ تو وہ تھا کہ ایک طرف دلّی کے مشہور تیراک مولوی علیم اللہ کا غول ہوتا تھا جن میں مرزا مغل اور مرزا طفل بہت سربرآوردہ اور نامی تھے اور دوسری طرف ہمارے والد کے ساتھ سو سوا سو شاگردوں کا گروہ ہوتا تھا۔ یہ سب ایک ساتھ دریا میں کودتے تھے اور مجنوں کے ٹیلے سے شیخ محمد کی بائیں تک یہ سارا گروہ تیرتا جاتا تھا۔

پھر جب ہم دونوں بھائی تیرنا سیکھتے تھے، اس زمانہ میں بھی تیس چالیس آدمی والد کے ساتھ ہوتے تھے۔ ان ہی دنوں میں نواب اکبر خاں اور چند اور رئیس زادے بھی تیرنا سیکھتے تھے۔

زینۃ المساجد کے پاس نواب احمد بخش خاں کے باغ کے نیچے جمنا بہتی تھی، وہاں سے تیرنا شروع ہوتا تھا۔ مغرب کے وقت سب تیراک زینۃ المساجد میں جمع ہو جاتے تھے اور مغرب کی نماز جماعت سے پڑھ کر اپنے اپنے گھر چلے آتے تھے۔ میں ان جلسوں میں اکثر شریک ہوتا تھا۔”

(الطاف حسین حالی کی کتاب “سر سیّد کی کہانی سر سیّد کی زبانی” سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں