The news is by your side.

Advertisement

اسپیکر سندھ اسمبلی کی ضمانت منسوخی سے متعلق عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی ضمانت منسوخی پر اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی کی ضمانت منسوخی کیلئے دائر اپیل پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اسپیکر سندھ اسمبلی کو ضمانت دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سندھ ہائیکورٹ آغا سراج کی ضمانت پر دو ماہ میں ازسرنوفیصلہ کرے، ہائیکورٹ حقائق اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے، نیب مقدمات پر سماعت ہائیکورٹ کے سینئر ججز پر مشتمل بینچ کرے ،ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ اس دوران آغا سراج سمیت ضمانت پر رہا دیگر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطابندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ضمانت دینے کیلئے کوئی بنیاد تو ہونی چاہیے، سندھ ہائیکورٹ نے فیصلے میں صرف کتابی گفتگو کی۔اس سے قبل نیب پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ثبوت پیش کئے، آغاسراج درانی کے اثاثے آمدن سے بہت زیادہ ہیں مگر سندھ ہائیکورٹ نے حقائق کا جائزہ ہی نہیں لیا۔

کمرہ عدالت میں موجود وکیل آغا سراج درانی عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ نیب کےکسی بندے نےجائیدادوں کا جائزہ نہیں لیا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کے فیصلے میں وجہ بیان نہیں کی، بغیر وجوہات کے کیسے ضمانت دے دی گئیں؟، کیس دوبارہ ہائیکورٹ کو ریمانڈ کر دیتے ہیں، نیب مقدمات پر سماعت ہائیکورٹ کے سینئر ججز پر مشتمل بینچ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  زائد اثاثہ جات ریفرنس، آغا سراج درانی کے اہلِ خانہ کی گرفتاری کا حکم

بعد ازاں عدالت نے شریک ملزمان کے وکیل کو ہائیکورٹ میں دلائل دینےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ 13 دسمبر 2019 کو سندھ ہائیکورٹ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سمیت نو ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کی تھی، عدالت نے ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق آغا سراج درانی و دیگر پر ایک ارب 61 کروڑ کے غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں