site
stats
پاکستان

مسلم لیگ والے راحیل شریف کے جانے پر بہت خوش ہیں، سراج الحق

ملتان : جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ والے راحیل شریف کے جانے پر بہت خوش ہیں کیونکہ ایک شریف نے تو جانا ہی تھا ، قطری اور سعودی شہزادوں کے آنے سے کرپٹ حکمرانوں کی عوام کی نظروں میں عزت نہیں بڑھ سکتی۔

ملتان ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان پر کل خرچہ ستر بلین ڈالر ہے جبکہ کرپٹ حکمرانوں کا بیرون ممالک تین سو ستر بلین ڈالر سے زیادہ رقم موجود ہے، جس کے واپس آنے سے ہم قرضہ لینے والے نہیں دینے والے بن جائیں گے۔

پانامہ لیکس پر بات کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس میں نواز شریف سمیت سب کا احتساب ہو نا چاہیئے، نواز شریف عوام کی نظروں میں گر چکے ہیں اور اب قطری اور سعودی شہزادے پاکستان آکر گواہیاں بھی دیں تو انکی عزت عوام کی نظر میں نہیں بڑھ سکتی۔

انکا کہنا تھا کہ پانچ سو خاندانوں کے پانچ ہزار لوگوں کو آڈیالہ اور ملتان جیل میں ڈال دیا جائے اور ملک کو لوٹنے کی سزا دی جائے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، صدر کے باغیچے کے لئے تین کروڑ اور وزیراعظم کے باغیچے پر دو کروڑ ستر لاکھ روپے لگتے ہے اور غریب عوام کے پاس کھانے کو روٹی تک نہیں۔


مزید پڑھیں : نواز شریف عدالت میں پیش ہوجاتے تو کرپشن ختم ہوجاتی، سراج الحق


امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اگر جماعت اسلامی کی حکومت آئی تو عدل و انصاف کی حکومت ہو گئی اور لوگوں کو مفت تعلیم اور علاج ملے گا ، وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہوگا ، وی آئی پی عدالت میں سائل، اسپتال میں مریض اور یونیورسٹیوں میں طالبعلم ہو نگے اور ایسے اسپتال بناؤں گا جہاں وزیراعظم کے دل کا علاج ہو سکے گا۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سمیت ملک جہاں ضرورت ہے، صوبے اور یونٹ بنائے جائیں کیونکہ یہ قانون کے خلاف نہیں ہے ، میں ایسے لوگ پارٹی میں شامل نہیں کرسکتا جو چور ہو کیونکہ چور لوگ چوروں کا حساب کس طرح کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ میں بلوچوں اور سندھیوں کو کہتا ہو کہ اسلام اور پاکستان کے خلاف بات نہ کریں تو میں آپ کے ساتھ ہو۔

پانامہ لیکس پر بات کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ نواز شریف عوام کی نظروں میں گر چکے ہیں اور اب قطری اور سعودی شہزادے پاکستان آکر گواہیاں بھی دیں تو انکی عزت عوام کی نظر میں نہیں بڑھ سکتی

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top